PAMPOSH
 
 
اسلام دین رحمت، رسول الله شمع ہدایت، علی ذات ولایت
 

امام صادق (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد آپ کا علمی قیام کس طرح محفوظ رہا؟

اوضاع و احوال کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر طرح کا گرم اقدام اور ایسا پروگرام انجام دینے کی صلاح نہیں تھی جس سے متعلق منصور کی حکومت شروع ہی سے حساس تھی ۔ اس وجہ سے امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے اپنے والد گرامی کی علمی کاوشوں کو آگے بڑھایا اور ایک حوزہ علمیہ تشکیل دیا ، بہت سے بزرگ شاگردوں اوربا علم وفضیلت افراد کی تربیت کی ۔
سید بن طاووس لکھتے ہیں : امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے خاص شیعہ اور خاندان ہاشمی کے افراد آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ کے زرین اقوال اور وہاں پر موجود افراد کے سوالوں کے جوابات کو لکھتے تھے اور آپ جو حکم صادر فرماتے تھے اس کو محفوظ کرتے تھے (١) ۔
سید امیر علی لکھتے ہیں : ١٤٨ ہجری میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی شہادت ہوئی لیکن آپ کا علمی مدرسہ بند نہیں ہوا بلکہ آپ کے بیٹے اور جانشین امام موسی کاظم (علیہ السلام) کی رہبری میں آگے بڑھا اور محفوظ رہا (٢) ۔
موسی بن جعفر نے نہ صرف علمی لحاظ سے اس وقت کے تمام علمی رجال اور علماء کو اپنے تحت الشعاع میں قرار دیا بلکہ اخلاقی فضائل اور انسانی برجستہ صفات کے لحاظ سے بھی آپ کی شخصیت اس قدر زبان زد عام و خاص تھی ، کہ جو عالم بھی آپ کی پُرافتخار زندگی سے آشنائی رکھتا ہے وہ آپ کی اخلاقی شخصیت کے سامنے سرتعظیم خم کرلیتا ہے ۔
اہل سنت کا مشہور محدث اور عالم ابن حجرہیتمی نے لکھا ہے :
موسی کاظم (علیہ السلام) اپنے والد کے علوم کے وارث اور بہت زیادہ افضل و اکمل تھے ۔ آپ کی بہت زیادہ عفو و بخشش نے آپ کو ""کاظم"" کا لقب دیا اور آپ کے زمانہ میں کوئی بھی علم و معارف اور آپ کی عفو و بخشش میں آپ کے برابر نہیں تھا (٣) ۔ (٤) ۔

حاشیہ:

۱. حاج شيخ عباس قمى، الأنوارالبهيه، مشهد، مؤسسه منشورات دينى مشهد، ص ۱۷۰. ۲. مختصر تاريخ‏العرب، ط ۲، تعريب: عفيف ‏البعلبكى، بيروت، دارالعلم‏ للملايين،۱۹۶۷ م، ص ۲۰۹. ۳. الصواعق ‏المحرقه، قاهره، مكتبه القاهره، ص ۲۰۳. ۴. گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص ۴۱۵.


برچسب‌ها: دانشگاہ امام صادق, امامین صادقین, دانشگاہ بزرگ اسلام
 |+| نوشته شده در  دوشنبه شانزدهم بهمن ۱۴۰۲ساعت 19:16  توسط MAQBOOL HUSSAIN JAFARI  | 
  بالا