|
PAMPOSH
|
||
|
اسلام دین رحمت، رسول الله شمع ہدایت، علی ذات ولایت |
حضرت عسکری علیه السلام فرماتے ہیں:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يُخْرِجْنِي مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى أَرَانِي الْخَلَفَ مِنْ بَعْدِي أَشْبَهَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صلی الله علیه و آله خَلْقاً وَ خُلْقاً يَحْفَظُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى فِي غَيْبَتِهِ ثُمَّ يُظْهِرُهُ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً.
تمام حمد وثنا اس خدائے تعالی سے مخصوص ہے کہ جس نے مجھے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ہی اپنا جانشین دکھایا ہے۔ وہ خُلقاً و خَلقاً رسول اللہ ص کی شبیہ ہیں؛ اللہ تبارک و تعالٰی پردہ غیب میں رکھ کر ان کی حفاظت کرے گا پھر ظہور کرے کے زمین کو عدل و داد سے بھر دیں گے جس طرح سے وہ (زمین) ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔
کمال الدین، ج ۲، ص ۴۰۲، ح ۷
زیارت عاشورا کی عظمت
زیارت عاشورا کی عظمت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ احادیث قدسیہ میں سے ایک ہے جیسا کہ صفوان بن جمال کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زیارت اللہ نے جناب جبرئیل پر القاء کی پھر جبرئیل نے اسے رسول تک پہنچایا اور پھر ائمہ کے توسط سے یہ زیارت صادق آل محمد تک پہنچی مگر حکم زیارت کے اظہار کا زمانہ امام محمد باقر کا زمانہ ہے جیسے دوسرے کئی احکام زمانہ کی ضرورت کے حساب سے تاخیر سے بیان ہوئے اسی طرح یہ زیارت بھی امام محمد باقر نے امام صادق سے بیان کی یہ زیارت مرتبہ میں قرآن سے کم نہیں اس لئے کہ یہ اللہ کا کلام ہے بس حدیث قدسیہ اور قرآن میں یہ فرق ہے کہ قرآن کو معجزہ بناکر پیش کیا گیا اور حدیث قدسی کو معجزہ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ۔
مفاتیح الجنان، حاج شیخ عباس قمی، باب سوم
زیارت عاشورا کے حوالے سے علماء کی سیرت
زیارت عاشورا کی عظمت کی بناپر ہماری بڑی بڑی دینی مذہبی شخصیات نے اپنی زندگی میں اس پر خاص توجہ دی ہے جن میں سے ہم یہاں صرف چند نمونے ذکر کرتے ہیں:
۱۔ آیت اللہ وحید بہبہانی
"مشہور ہے کہ آقا محمد باقر جو وحید بہبہانی سے معروف تھے جب سید الشہدا کی زیارت کو جاتے تو نہایت خضوع و خشوع اور رقت و زاری کے ساتھ اس زیارت کی قرائت فرماتے تھے"۔
قصص العلماء، ص 202
۲ مرجع جہان تشیع آیت اللہ شیخ مرتضی انصاری
شیخ انصاری کے پوتے اپنے دادا کے حالات میں لکھتے ہیں کہ شیخ انصاری کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ دن میں دو بار صبح اور شام زیارت عاشورا کی پابندی کرتے تھے ان کی وفات کے بعد کسی نے انہیں خواب میں دیکھا اور ان کے حالات دریافت کیے تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا" عاشورا ، عاشورا، عاشورا"۔
زندگانی و شخصیت شیخ انصاری، ص 377.
۳۔ آیت اللہ میرزای محلاتی
مرجع عراق مرحوم شیخ جواد عرب عظیم فقیہ ،عادل اور بڑے پایہ کے زاہد تھے
آپ نے ۲۶ صفر سنہ ۱۳۳۶ ہجری میں خواب میں حضرت عزرائیل کو دیکھا تو سلام کے بعد پوچھا: آپ کہاں سے آرہے ہیں؟ عزرائیل نے کہا :میں میرزا ابراہیم محلاتی کی روح قبض کرکے شیراز سے آرہا ہوں۔
حاج آقا جواد عرب نے پوچھا: ان کی روح عالم برزخ میں کس حال میں ہے؟
عزرائیل نے کہا: وہ بہترین حالت میں ہیں وہ برزخ کے بہترین باغات میں ہیں اور اللہ نے ان کیلئے ہزار فرشتے مقرر کیے ہیں جو ہر پل ان کا حکم بجالانے کیلئے حاضر رہتے ہیں۔ جواد عرب نے پوچھا:ان کے کس عمل کی وجہ سے ان کو یہ درجہ ملا ہے؟ عزرائیل نے جواب دیا: زیارت عاشورا کی قرائت سے ان کو یہ مقام ملا ہے۔
مرحوم مرزائے شیرازی نے اپنی عمر کے آخری تیس سالوں میں کبھی زیارت عاشورا ترک نہیں کی اور اگر کبھی بیماری کی وجہ سے خود نہ پڑھ سکے تو کسی اور کو اپنی جانب سے نایب بناکر پڑھوایا۔
جناب جواد عرب جب صبح نیند سے جاگے تو اگلے دن آیت اللہ مرزا محمد تقی شیرازی جسے میرزای دوم بھی کہا جاتا ہے کے گھر گئے اور پورا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ میں نے مرزا محلاتی کی موت کا خواب دیکھا ہے نہ جانے کتنا سچ ہو یہ کہہ کر رونے لگے تو محمد تقی شیرازی نے کہا: ہاں خواب تو ہے لیکن آپ کا خواب کسی عام آدمی کے بارے میں نہیں مرزا کے بارے میں ہے یقینا کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔
دوسرے ہی دن شیراز سے نجف ٹیلیگرام آیا کہ مرزا محلاتی شیراز میں انتقال کر گئے۔
داستانهای شگفت، شهید دستغیب، ص 274- 273
۴۔ اہل بیت عصمت و طہارت سے والہانہ محبت
بانی حوزہ علمیہ قم مرحوم شیخ عبد الکریم حائری رضوان اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں سامرا میں آیت اللہ شیرازی کے درس میں شریک تھا کہ درس کے بیچ آیت اللہ سید محمد فشارکی رحمۃ اللہ علیہ وارد ہوئے۔
ان کے چہرے سے پریشانی اور بے چینی صاف ظاہر تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں عراق میں وبا پھیلی ہوئی تھی جس سے پورا عراق متاثر تھا انہوں نے آتے ہی ہم سب سے پوچھا کیا آپ سب مجھے مجتہد مانتے ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں ہم آپ کو مجتہد مسلم مانتے ہیں پھر پوچھا : کیا آپ سب مجھے عادل جانتے ہیں؟ ہم سب نے کہا جی ہاں ہم آپ کو عادل جانتے ہیں۔
ان سوالوں سے ان کا مقصد اس بات کا اقرار لینا تھا کہ مجھ میں فتوی کے شرائط ہے یا نہیں، جب سب سے اقرار لے لیا تب آپ نے کہا:"سامرا کے تمام شیعہ چاہے مرد ہوں یا خواتین سب کو حکم دیتا ہوں کہ سب امام زمانہ کی والدہ ماجدہ کی جانب سے نیابتا زیارت عاشورا پڑھیں اور ان کا واسطہ دیکر امام زمانہ سے سفارش کریں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں دعا فرمائیں کہ تمام شیعوں کو اس بلا سے نجات دلائے۔
مرحوم حائری نے فرمایا کہ جیسے ہی یہ حکم صادر ہوا وبا کے ڈر سے سامرا کے تمام شیعوں نے زیارت عاشورا کی قرائت کی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بھی شیعہ اس وبا م کی وجہ سے فوت نہیں ہوا۔
جبکہ دوسرے مسلک کے لوگ ہر روز اس وبا سے فوت ہورہے تھے۔"
۵۔ بنیان گذار انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خمینی علیہ الرحمہ جب تک نجف میں رہے قبر جناب امیر ع کے پہلو میں اس زیارت کی قرآئت فرماتے تھے اور جب کربلا زیارت کیلئے جاتے تو وہاں بھی یہی معمول ہوتا۔
محرم کے عشرہ اولی میں آپ سو مرتبہ سلام اور سو مرتبہ لعنت کی رعایت کے ساتھ یہ زیارت پڑھا کرتے تھے
سیمائیفرزانگان، علی مختاری، چاپ پنجم، ص 179
ایسے تین کام جو انسان کو خدا اور رسول خدا(ص) کا محبوب بنا دیتے ہیں
قال رسول اللہ صلی الله علیه و آله و سلم :
إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ یُحِبَّکُمُ اللّه ُ وَ رَسولُهُ فَأَدّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ وَ اصْدُقوا إِذا حَدَّثْتُم ْوَ أَحْسِنوا جِوارَ مَنْ جاوَرَکُمْ.
حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اگر چاہتے ہو کہ خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تم سے محبت کریں تو جب امانت تمہارے سپرد کی جائے تو اسے صحیح و سالم واپس کرو جب بولو تو سچ بولواور اپنے ہمساؤں سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔
نہج الفصاحہ، ح ۵۵۴
قال الامام موسی بن جعفر علیه السلام
إیّاکَ و مُخَالِطَهُ النّاس و الإنس بِهِم إلا أن تَجِدَ مِنهُم عَاقِلاً و مَأمُوناً فَآنَسَ بِه و أهرَبَ مِن سایِرهِم کَهَربُکَ مِن السِّباعِ الضّارِیه.
لوگوں کے ساتھ نشست و برخواست کرنے سے پرہیز کریں، مگر یہ کہ ان کے درمیان عقلمند اور امانتدار موجود ہو ایسی صورت میں عقلمند اور امانتدار کے ساتھ معاشرت کریں اور باقی لوگوں سے ایسے فرار کریں جیسے جنگلی درندے سے فرار کرتے ہیں۔
شرح: اگر معاشرے میں عقلمند اور امانتدار موجود نہ ہو تو سمجھو معاشرہ جنگلی جانوروں کا ہے جو کسیہ چیز کا پاسپورٹ واپس لحاظ نہیں کرتے ہیں۔
تحفالعقول، ص ۴۲۰،
بسم الله الرحمن الرحیم
امام علی علیه السلام:
يَنْزِلُ الصَّبْرُ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ وَ مَنْ ضَرَبَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ عِنْدَ مُصِيبَتِهِ حَبِطَ أَجْرُهُ.
مصیبت کےمطابق خدا انسان کو صبر عطا کرتا ہے اورجو شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے اس کا عمل ضائع ہوجاتا ہے۔
نہج البلاغه حکمت ۱۴۴
بسم الله الرحمن الرحیم
امام علی علیه السلام:
إِنَّ لِلَّهِ مَلَكاً يُنَادِي فِي كُلِّ يَوْمٍ: لِدُوا لِلْمَوْتِ، وَ اجْمَعُوا لِلْفَنَاءِ، وَ ابْنُوا لِلْخَرَابِ.
اللہ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ آواز دیتا ہے ۔کہ موت کے لیے اولاد پیدا کرو ،برباد ہونے کے لیے جمع کرو اور تباہ ہونے کے لیے عمارتیں کھڑی کرو ۔
نہج البلاغه حکمت ۱۳۲
بسم الله الرحمن الرحیم
امام علی علیه السلام:
لَا يَكُونُ الصَّدِيقُ صَدِيقاً حَتَّى يَحْفَظَ أَخَاهُ فِي ثَلَاثٍ: فِي نَكْبَتِهِ وَ غَيْبَتِهِ وَ وَفَاتِهِ.
دوست اس وقت تک دوست نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی تین موقعوں پر نگہداشت نہ کرے ۔مصیبت کے موقع پر، اس کے پس پشت اور اس کے مرنے کے بعد.
نہج البلاغه حکمت ۱۳۴
سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کیحیات طیبہ
حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی علیہ السلام اور حضرت زہر (سلام اللہ علیہا ) کی بیٹی ہیں جو سنہ ۵ یا ۶ ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ امام حسین(علیہ السلام) کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں اور ۱۰ محرم الحرام سنہ ۶۱ ہجری کو جنگ کے خاتمے کے بعد اہلبیت(ع ) کے ایک گروہ کے ساتھ لشکر یزید کے ہاتھوں اسیر ہوئیں اور کوفہ اور شام لے جائی گئیں۔ انھوں نے اسیری کے دوران، دیگر اسیروں کی حفاظت و حمایت کے ساتھ ساتھ، اپنے غضبناک خطبوں کے توسط سے بےخبر عوام کو حقائق سے آگاہ کیا۔ حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) نے اپنی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے تحریک عاشورا کی بقاء کے اسباب فراہم کئے۔ تاریخی روایات کے مطابق سیدہ زینب(سلام اللہ علیہا) سنہ ۶۳ ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئیں اور دمشق میں دفن ہوئی۔
آپ کی ولادت:
حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے معتبر ترین روایت کے مطابق آپ کی ولادت ۵ جمادی الاول سن ۶ ہجری کو مدینہ میں ہوئی۔
رسول خدا ص کا گریہ کرنا:
جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے موقع پر علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لائے تو آپ نے نومولود بچی کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس کو پیار کیا اور سینے سے لگایا۔ اس دوران علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دیکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونچی آواز سے گریہ کر رہے ہیں۔ جناب فاطمہ س نے آپ ص سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ ص نے فرمایا: "بیٹی، میری اور تمہاری وفات کے بعد اس پر بہت زیادہ مصیبتیں آئیں گی"۔
والدین
حضرت زینب(س) کے والد گرامی امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام) اور آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا ) ہیں۔
اسم مبارک
روایات میں ملتا ہے کہ جب حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت مبارک ہوئی تو پیغمبر اکرم ص مدینہ میں نہیں تھے۔ لہذا حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے حضرت امام علی علیہ السلام کو کہا کہ آپ اس بچی کیلئے کوئی نام انتخاب کریں۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول خدا ص کے واپس آنے کا انتظار کر لیا جائے۔ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس آئے تو حضرت علی علیہ السلام نے انہیں یہ خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اس بچی کا نام آپ انتخاب کریں۔ آپ (ص) نے فرمایا کہ اس کا نام خدا انتخاب کرے گا۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور خدا کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا کہ "خدا نے اس بچی کا نام "زینب" رکھا ہے۔
القاب
ثانیِ زہرا، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء۔
کنیت
حضرت زینب(ع) کی کنیتوں میں ام کلثوم اور ام المصائب معروف و مشہور ہیں
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی شادی:
آپ کی شادی ۱۷ ہجری میں اپنے چچا کے بیٹے عبداللہ ابن جعفر ابن ابیطالب سے ہوئی۔ عبداللہ حضرت جعفر طیار کے فرزند تھے اور بنی ہاشم کے کمالات سے آراستہ تھے۔ آپ کے چار فرزند تھے جنکے نام محمد، عون، جعفر اور ام کلثوم ہیں۔
شہادت
اتوار کی رات ۱۵ رجب سنہ ۶۳ ہجری کو اپنے شریک حیات عبداللہ بن جعفر کے ہمراہ سفر شام کے دوران شہادت اور وہیں دفن ہوئیں اور بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ مدینہ یا مصر میں دفن ہیں۔
حضرت زینب س کے خطبات:
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات میں ان کے والد امام علی علیہ السلام کی فصاحت اور بلاغت کی جھلک نظر آتی ہے۔ لہذا جس طرح امیرالمومنین علی علیہ السلام کے کلام کو بزرگ علماء نے قیمتی موتیوں کی طرح جمع کیا ہے اسی طرح حضرت زینب س کے خطبات کو بھی بڑے بڑے محققین اور تاریخ دانوں نے اپنی کتابوں کی زینت بنایا ہے۔ ان میں مرحوم محمد باقر مجلسی کی کتاب "بحارالانوار"، مرحوم ابومنصور احمد ابن علی طبرسی کی کتاب "احتجاج"، شیخ مفید رہ کی کتاب "امالی" اور احمد ابن ابی طاہر کی کتاب "بلاغات النساء" شامل ہیں۔
۱- بازار کوفہ میں حضرت زینب س کا خطبہ:
کوفہ کے زن و مرد جو ہزاروں کی تعداد میں یہ نظارہ دیکھنے کے لئے وہاں جمع تھے آلِ رسول ص کو اس تباہ حالت میں دیکھ کر زار و قطار رونے لگے۔ امام زین العابدین نے نحیف و نزار آواز کے ساتھ فرمایا: "تنوحون وتبکون من ذاالذی قتلنا"
اے کوفہ والو! یہ تو بتاؤ ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟
اسی اثنا میں ایک کوفی عورت نے چھت سے جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کس قوم اور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو؟۔ آپ نے فرمایا: "نحن اساری آلِ محمد ص"۔ ہم خاندانِ نبوت کے اسیر ہیں۔
یہ سن کر وہ نیک بخت عورت نیچے اتری اور کچھ برقعے اور چادریں اکٹھی کر کے ان کی خدمت میں پیش کیں۔
اس وقت عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ لوگوں کی آہ و زاری اور شور کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن راوی بتاتے ہیں کہ جونہی شیر خدا کی بیٹی نے لوگوں کو ارشاد کیا کہ "انصتوا" [خاموش ہو جاؤ]، تو کیفیت یہ تھی کہ "ارتدت الانفاس و سکنت الاجراس"، آتے ہوئے سانس رک گئے اور جرس کارواں کی آوازیں خاموش ہو گئیں۔ اس کے بعد دختر علی ع نے خطبہ شروع کیا تو لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام کا لب و لہجہ یاد آ گیا۔
جب ہر طرف مکمل خاموشی چھا گئی تو امّ المصائب نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا:
"سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال و الاکرام کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمد ص پر اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔ اما بعد! اے اہلِ کوفہ! اے اہل فریب و مکر! کیا اب تم روتے ہو؟ خدا کرے تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغان کبھی بند نہ ہو۔ تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری بانٹی اور پھر خود ہی اسے کھول دیا اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا تم منافقانہ طورپر ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو جن میں کوئی صداقت نہیں۔ تم جتنے بھی ہو، سب کے سب بیہودہ گو، ڈینگ مارنے والے ، پیکر فسق و فجور اور فسادی، کینہ پرور اور لونڈیوں کی طرح جھوٹے چاپلوس اور دشمنی کے غماز ہو۔ تمھاری مثال کثافت[گندگی] پر اگنے والے سبزے یا اس چاندی جیسی ہے جو دفن شدہ عورت (کی قبر) پر رکھی جائے۔
آگاہ رہو! تم نے بہت ہی برے اعمال کا ارتکاب کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا وند عالم تم پر غضب ناک ہے۔ اس لئے تم اس کے ابدی عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گئے۔ اب کیوں گریہ و زاری کرتے ہو؟ ہاں بخدا البتہ تم اس کے سزاوار ہو کہ روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔ تم اپنے امام علیہ السلام کے قتل میں ملوث ہو چکے ہو اور تم اس داغ کو کبھی دھو نہیں سکتے اور بھلا تم خاتم نبوت اور معدن رسالت کے سلیل (فرزند) اور جوانان جنت کے سردار، جنگ میں اپنے پشت پناہ، مصیبت میں جائے پناہ، منار حجت اور عالم سنت کے قتل کے الزام سے کیونکر بری ہو سکتے ہو۔ لعنت ہو تم پر اور ہلاکت ہے تمہارے لئے۔ تم نے بہت ہی برے کام کا ارتکاب کیا ہے اور آخرت کے لئے بہت برا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ تمھاری کوشش رائیگاں ہو گئی اورتم برباد ہو گئے۔ تمہاری تجارت خسارے میں رہی اور تم خدا کے غضب کا شکار ہو گئے۔ تم ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسول خدا ص کے کس جگرگوشہ کو پارہ پارہ کر دیا ؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ؟ تم نے ایسے پست اعمال کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں، زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امام ع کا سنگین جرم کیا ہے جو وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔ اگر اس قدر بڑے گناہ پر آسمان سے خون برسے تو تعجب نہ کرو۔ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت اور رسوا کن ہو گا۔ اور اس وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے اس سے خوش نہ ہو کیونکہ خدا وندِ عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا اور اسے انتقام کے فوت ہو جانے کا خدشہ نہیں ہے۔ یقیناً تمہارا خدا اپنے نا فرمان بندوں کی گھات میں ہے'۔
۲ دربار یزید میں حضرت زینب س کا خطبہ:
"بسم اللہ الرحمن الرحیم
سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پراور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت ع پر۔ اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا۔ اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے[زمین و آسمان] تنگ کر دئیے ہیں اور کیا آلِ رسول (ص) کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟۔ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے اور ناک بھوں چڑھاتا ہوا مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور زمامداری[خلافت] کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔
اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ذرا دم لے۔
کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں۔اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین و مقرر کیا جا چکا ہے۔
اے طلقاء کے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیاء نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔ تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسول (ص) کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے۔ اورلوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بی بیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں۔
آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں۔
آج آلِ محمد ص کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے۔
اس شخص سے بھلائی کی توقع ہی کیا ہو سکتی ہے جو اس خاندان کا چشم و چراغ ہو جس کی بزرگ خاتون (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں کے جگر چبا کر تھوک دیا۔ اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس کا گوشت پوست شہیدوں کے خون سے بنا ہو۔
وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے۔
اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں۔
اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی ع کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے۔
اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔
تو نے اولاد رسول (ص) کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں۔
تو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں۔
آج تو آلِ رسول (ص) کو قتل کر کے اپنے بد نہاد[برے] اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے۔
تو عنقریب اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اُس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے میں باز رہتا۔
اس کے بعد حضرت زینب نے آسمان کی طرف منہ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی !
اے ہمارے کردگارِ حق، تو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے۔
اے پردگار تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے۔
اور اے خدا تو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا۔
اے یزید ! تو نے جو ظلم کیا ہے اپنے ساتھ کیا ہے۔ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے۔ اور تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے۔ تو رسولِ خدا ص کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناؤنے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول ص کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا۔ نیز رسول (ص) کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول (ص) کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا۔ خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر مٹ چکے ہیں۔ بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد ص پر ڈھائے ہیں اس پر رسول خدا ص عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے۔ اور جبرائیلِ امین آلِ رسول ص کی گواہی دیں گے۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعے تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے۔
عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں۔
اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد[برے انسان] سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں توُ ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے۔ میری اس جرأت سخن پر توُ مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بد سلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
اے یزید ! آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور سینوں میں آتش غم کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنواؤں اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کرڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑئے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔
اے یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے۔
اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔
تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔
تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔
تری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کے لئے حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لئے خدا کی لعنت ہے ۔
ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور ہمارے آخر (امام حسین علیہ السلام) کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمائے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنایتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے۔ خدا کی عنایتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے"۔
مراجع:
۱- اخبار الزینبات، عقیلۃ الوحی،
۲- فاطمۃ الزھرا، بہجۃ قلب مصطفی،
۳- زینب کبری،
مرقدحضرت زینب سلام اللہ علیہا
حضرت السیدہ زینب (سلام اللہ علیہا) کی قبر مطہر کے بارے میں تین احتمالات پائے جاتے ہیں: مدینہ منورہ، شام اور قاہرہ۔
اکثرسیرت نویسوں نے اس مقدس خاتون کے مرقد کو " قاہرہ" اور"شام" بتایا ہے۔
یحیی بن حسن حسینی عبیدلی اعرجی نے کتاب" اخبار زینبیات" میں اور بعض دوسرے سیرت نویسوں نے کہا ہے کہ: حضرت زینب (س) نے مصر میں وفات پائی ہے۔ علامہ حسنین سابقی نے اپنی کتاب" مرقد عقیلہ زینب" میں اور بعض دوسروں نے لکھا ہے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا مرقد شام اور دمشق میں واقع ہے۔
بعض دوسرے مصنفوں، جیسے: ڈاکٹر شہیدی اپنی کتاب " زندگانی فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا)" میں ان کا مرقد شک و شبہہ کی صورت میں شام اور مصر بیان کیا ہے۔
جنھوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت زینب (س) کا مقبرہ مصر میں واقع ہے، انھوں نے یہ روایت نقل کی ہے کہ واقعہ کربلا کے اسراء کا کاروان شام سے مدینہ آنے کے بعد، مدینہ کے حالات نا آرام ہوئے۔
حاکم مدینہ نے یزید کو ایک خط لکھا اور اس خط میں مدینہ میں رونما ہوئے حالات اور لوگوں کی بیداری اور مقاومت کے سلسلہ میں حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے رول کی وضاحت کی۔ یزید نے جواب میں لکھا کہ زینب (سلام اللہ علیہا) کو مدینہ سے نکال دیں۔ حاکم مدینہ اصرار کرتا تھا کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) مدینہ سے نکلیں ۔ بالآخر زینب (سلام اللہ عیہا) نے مدینہ سے مصر ہجرت کی اور وہاں پر حاکم مصر اور مصر کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد 15 رجب سنہ 63ھ ق کو غروب کے وقت قاہرہ میں وفات پائی۔
لیکن جنہوں نے یہ کہاہے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا مقبرہ شام میں ہے، انھوں نے حاکم مدینہ کی اس داستان کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) شام چلی گئیں اس سلسلہ میں ایک اور روایت نقل کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ: جب سنہ 62ہجری قمری میں یزدیوں کے توسط سے مدینہ میں واقعہ حرّہ اور غارت اور قتل عام پیش آیا تو، عبداللہ بن جعفر، نے اپنی شریک حیات حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے ہمراہ شام میں ایک مزرعہ (کھیت) کی طرف ہجرت کی تاکہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کا غم تجدید نہ ہوجائے اور تھوڑا سا غم و اندوہ کم ہوجائے، اس کے علاوہ مدینہ میں طاعون کی بیماری پھیلی تھی اس لئے اس سے بچنے کے لئے عبداللہ بن جعفر حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کے ہمراہ شام چلے گئے اور وہاں پر سکونت اختیار کی، حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) بیمار ہوئیں اور وہیں پر وفات پائی۔ زینب کبری (سلام اللہ علیہا) کے بعد، ام کلثوم، حضرت علی (علیہ السلام) کی دوسری بیٹی جو فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کے بطن سے نہیں تھیں اور ان کا نام زینب صغری تھا، زینب کبری کے نام سے مشہور ہوئیں اور وہ مصر چلی گئیں۔
اگرچہ یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہوگا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قبر مطہر کہاں پر ہے، پھر بھی کہا جاسکتا ہے کہ: جو زیارت گاہیں اور اماکن اس مقدس خاتون سے منسوب ہیں، وہ خدا کے ذکر و توجہ اور انسان ساز اور شہیدوں اور اہل بیت (علیھم السلام) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ سب اس آیہ شریفہ:" یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔" کے مصداق ہیں۔ یہ جگیں اگرچہ صرف ان سے منسوب ہی ہوں، خدا کے ذکر اور توجہ اور انسان سازی اور شہیدوں اور اہل بیت (علیھم السلام) سے پیوند کی جگہیں ہیں۔ اہل بیت کی دفن کی جگہ جہاں پر بھی ہو، یہ اماکن ان کی یاد کو تازہ کرنے والے ہیں اور یہ یادیں عاشقوں کے دلوں میں قرار پاتی ہیں۔
تاریخ کربلا اور انقلاب زینبی:
تاریخ کربلا اور انقلاب زینبی (ع) میں ایک نیا باب کھلتا ہے زینب اس قافلے کی قافلہ سالار اور بزرگ ہیں کہ جسکے قافلہ سالار امام حسین تھے جس کے حامی عباس (ع) علی اکبر (ع) بنی ہاشم اور امام حسین (ع) کے باوفا اصحاب تھے ، وہ غیور مرد جن پر اہل بیت (ع) حرم اور بچوں کو ناز تھا جن کے وجود سے اہل بیت (ع) کو سکون تھا ۔
ایسی حمایت و نگہبانی تھی کہ سید شہدا (ع) کی حیات کے آخری لمحات تک دشمن خیموں کے پاس تک نہ بھٹک سکا ، جنگ کے دوران ابو عبد اللہ الحسین (ع) کی، لاحول ولا قوۃ الا باللہ کی آواز سے ان کی ڈہارس بندھی ہوئی تھی حسین (ع) اس طرح انھیں تسلی دے رہے تھے ۔
بہترین عزیزوں کی شہادت پر امام زین العابدین (ع) کے بعد اس قافلہ کی بزرگ خاندان پیغمبر (ص) سے ایک خاتون ہے کہ جس کے عزم و استقلال کے سامنے پہاڑ پشیمان، جس کے صبر پر ملائکہ محو حیرت ہیں، یہ علی (ع) کی بیٹی ہے، فاطمہ (س) کی لخت جگر ہے ۔ بنی امیہ کے ظلم کے قصروں کی بنیاد ہلانے والی ہے ، ان کو پشیمان و سرنگوں کرنے والی ہے جناب زینب تھیں ۔
یہ وہی سیدہ زینب (س) ہے جو اپنے امام (ع) کے حکم سے اولاد فاطمہ (س) کے قافلہ کی سرپرستی کرتی ہیں ، بڑی مصیبتیں اٹھانے کے بعد امام حسین (ع) اور ان کے فداکار اصحاب کے خونی پیغام کو لوگوں تک پہنچاتی ہیں ۔
عباس محمود عقاد مصر کے معروف مصنف نے لکھا ہے کہ:
جب زینب نے سنا کہ ابن زیاد نے علی ابن حسین کے قتل کرنے کا حکم دیا ہے، تو اس نے بے درنگ فوری خود کو اپنے وقت کے امام اور اپنے بھائی کے بیٹے کے پاس پہنچایا اور ابن زیاد کو اس کے قتل کرنے سے روکا، اس جرات اور شجاعت نے ابن زیاد اور اس کے دربار میں موجود ہر بندے کو حیران کر دیا۔ یقینی طور پر اگر زینب کی یہ جرات اور شجاعت نہ ہوتی تو نزدیک تھا کہ امام حسین کی نسل کی آخری یادگار بھی ختم ہو جاتی۔
محمدجواد مغنیہ لبنان کے متفکر نے لکھا ہے کہ:
علی (ع) نے علوم کو رسول خدا بغیر کسی واسطے کے حاصل کیا تھا اور ان علوم کو اپنی اولاد کو سیکھایا تھا اور ہم تک یہ تمام علوم علی (ع) کی اولاد کے ذریعے سے پہنچے ہیں۔ اسی وجہ سے بنی امیہ نے چاہا کہ نسل علی ختم کر دیں اور انکا کوئی بھی اثر باقی نہ رہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ: شمر نے کہا تھا کہ امیر عبید اللہ کا فرمان ہے کہ: حسین کی تمام اولاد کو قتل کیا جائے اور کوئی بھی زندہ نہ بچے۔
شمر نے یہ بات اس وقت کہی تھی کہ جب علی ابن حسین کو قتل کرنے کے لیے تلوار کو نیام سے نکالا ہوا تھا، اسی وقت زینب سامنے آئی اور کہا کہ: اگر اسکو قتل کرنا ہے تو پہلے مجھے بھی ساتھ قتل کرنا ہو گا۔
شیخ صدوق نے لکھا ہے کہ: حضرت زینب کو خاص نیابت امام حسین کی طرف سے ملی ہوئی تھی، اسی لیے لوگ حلال و حرام کے مسائل میں اس سے رجوع کیا کرتے تھے، لیکن جب امام سجاد کی صحت بہتر ہو گئی تو پھر وہ یہ کام امام وقت ہونے کی وجہ سے انجام دیتے تھے۔
علامہ مامقانی نے كتاب شریف تنقیح المقال میں لکھا ہے کہ:
حضرت زینب، امام کی مقام عصمت پر فائز تھیں اور اگر یہ مقام ان کے پاس نہ ہوتا تو امام معصوم امام حسین بالکل انکو امامت اور راہنمائی کا فریضہ نہ سونپتے، یعنی جب امام سجاد بیمار تھے، تمام امور امامت اور لوگوں کے حلال حرام کے مسائل بی بی زینب ہی انجام دیتی تھیں، لھذا یہ علامت ہے کہ وہ نائب امام ہونے کے خاص مقام پر فائز تھیں۔
احتجاج طبرسی میں ذکر ہوا ہے کہ: جب علی (ع) کی بیٹی نے لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے اشارہ کیا تو، اسی اشارے کی وجہ سے سانس لوگوں نے سینوں میں رک کر رہ گئے اور حتی اونٹوں کی گھنٹیوں کی آوازیں بھی بند ہو گئی۔
كمال السید، نے كتاب "زنی بہ نام زینب" میں لکھا ہے کہ: جب رسول خدا نے دنیا میں آنے کے بعد اپنی نواسی کو ہاتھوں پر اٹھایا، اسکو چوم کر فرمایا:
حاضر اور غائب تمام لوگوں تک یہ بات پہنچا دو کہ میری اس بیٹی کا احترام کریں، کیونکہ اس کا احترام بالکل خدیجہ کبری کی طرح ہے۔
کوفہ کی طرف انقلابی حرکت:
۱۱ محرم سن ۶۱ ہجری کو اہل بیت (ع) کے اسیروں کا قافلہ کربلا سے کوفہ کی طرف روانہ ہوا ، اہل بیت (ع) کے امور کی بھاگ دوڑ امام زین العابدین (ع) کے ہاتھ میں ہے کیونکہ آپ امام ہیں اور ان کی اطاعت کرنا سب پر واجب ہے، قافلہ سالار زینب کبری (س) ہیں ، جو امام زین العابدین (ع) کی قریب ترین ہیں اور خواتین میں سب سے بزرگ ہیں ۔
راہ حق و حقیقت میں کربلا کی فرض شناس خواتین نے امام عالی مقام (ع) کی بہن حضرت زینب کبری (ع) کی قیادت میں ایمان و اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے صبر و تحمل اور شجاعت و استقامت کے وہ جوہر پیش کیے ہیں ۔ جس کی مثال تاریخ اسلام بلکہ تاریخ بشریت میں بھی ملنا ناممکن ہے ۔
کربلا کی شہادت و اسیری کے دوران خواتین نے اپنی وفاداری اور ایثار و قربانی کے ذریعہ اسلامی تحریک میں وہ رنگ بھرے ہیں کہ جن کی اہمیت کا اندازہ لگانا بھی دشوار ہے ۔ وہ خود پورے وقار و جلال کے ساتھ قتل و اسیری کی تمام منزلوں سے گزر گئیں اور شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ آیا۔ نصرت اسلام کی راہ میں پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہیں اور اپنے عزم و ہمت کے تحت کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں حسینیت کی فتح کے پرچم لہرا دئیے۔ حضرت زینب (س) اور ان کی ہم قدم و ہم آواز ام کلثوم (ع) ، رقیہ ( ع) ، رباب (ع) ، ام لیلی (ع) ، ام فروہ (ع) سکینہ (ع) ، فاطمہ (ع) اور عاتکہ (ع) نیز امام (ع) کے اصحاب و انصار کی صاحب ایثار خواتین نے شجاعت اور ایثار و قربانی کے وہ لازوال نقوش ثبت کیں۔
ظاہر ہے کہ ان خواتین اور بچوں کو سنبھالنا آسان کام نہیں ہے کہ جنہوں نے عاشور کے دن رنج و مشقت اور غم برداشت کیے تھے، دل خراش واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اپنے عزیزوں کے داغ اٹھاۓ تھے اور اب وہ بے رحم دشمنوں کے محاصرہ میں ہیں اونٹ کی ننگی پیٹھ پر سوار کافر قیدیوں کی طرح لے جایا جا رہا ہے ۔
خواتین کے احساس و جذبات کا بھی خیال رکھنا ہے اور صورت حال میں امام زین العابدین (ع) کی جان کی حفاظت بھی کرنا ہے جو کہ قافلہ میں زینب کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری ہے وہ پیغام کربلا ہے کہ جو آپ کے ذمے ہے ، لیکن زینب کے حوصلہ میں حد سے زیادہ استقامت اور مقاومت ہے کہ وہ بڑی مشکلوں اور مصائب کے وحشتناک طوفانوں سے ہرگز نہ گھبرائیں اور مقصد امام حسین (ع) کو زندہ جاوید بنانے میں حضرت زینب نے تاریخی اور مثالی نمونہ پیش کیا ہے ۔
شام کی طرف انقلابی حرکت:
اسیروں کے قافلہ کو چند روز ابن زیاد کی بامشقت قید میں رکھ کر شام کی طرف روانہ کیا۔ جس وقت سے شام مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا تھا اس وقت ہی سے وہاں خالد بن ولید اور معاویہ ابن ابی سفیان جیسے لوگ حاکم رہے تھے ، اس علاقے کے لوگوں کو نہ پیغمبر (ص) کی صحبت میسر ہوئی اور نہ وہ آپ کے اصحاب کی روش سے واقف ہو سکے ،رسول خدا کہ چند صحابی جو اس سر زمین پر جا کر آباد ہوئے تھے یہ پراگندگی کی زندگی بسر کرتے تھے عوام میں ان کا کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا ، نتیجہ میں وہاں کے مسلمان معاویہ ابن ابی سفیان کے کردار اور اس کے طرز زندگی کو ہی سنت اسلام سمجھتے تھے ۔
اسیروں کے قافلے کے شام میں داخل ہونے کے وقت ایسے ہی لوگوں نے شہر شام کو جشن و سرور سے معمور کر رکھا تھا ، یزید نے اپنے محل میں مجلس سجا رکھی تھی ، اس کے ہم قماش چاروں طرف بیٹھے تھے تا کہ سارے مل کر اس کامیابی کا جشن منائیں ۔
بسم الله الرحمن الرحیم
امام علی علیه السلام:
الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ، لَا دَارُ مَقَرٍّ؛ وَ النَّاسُ فِيهَا رَجُلَانِ، رَجُلٌ بَاعَ فِيهَا نَفْسَهُ فَأَوْبَقَهَا، وَ رَجُلٌ ابْتَاعَ نَفْسَهُ فَأَعْتَقَهَا.
’’دنیا‘‘منزل نہیں ایک گزرگاہ ہے ۔اس میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک وہ جس نے اس میں اپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر دیا ۔اور ایک وہ جس نے اپنے نفس کو خرید کر آزاد کردیا۔
نہج البلاغه حکمت ۱۳۳
بسم الله الرحمن الرحیم
قٰالَ رسول اللّٰہِ لَیْلَةً اُسْرِیَ بِی اِنْتَھَیْتُ اِلٰی رَبِّی، فَأَوْحٰی اِلیَّ (اَوْ اَخْبَرَنِی) فِی عَلِیٍ بثلَاثٍ: اِنَّہُ سَیِّدُ الْمُسْلِمِیْنَ وَ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ وَ قَائِدُ الْغُرَّ الْمُحَجَّلِیْنَ۔
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ شبِ ِمعراج جب میں اپنے پروردگار عزّ و جلّ کے حضور پیش ہوا تو مجھے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں تین باتوں کی خبر دی گئی جو یہ ہیں کہ علی مسلمانوں کے سردار ہیں، متقین اور عبادت گزاروں کے امام ہیں اور جن کی پیشانیاں پاکیزگی سے چمک رہی ہیں اُن کے رہبر ہیں۔
ابن عساکر تاریخ دمشق ،باب شرح احوالِ امام ج2ص256حدیث772ص259
ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں ،صفحہ64،شمارہ211۔
ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث126اور147،صفحہ104۔
ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد9،صفحہ121۔
حاکم، کتاب المستدرک میں، جلد3،صفحہ138،حدیث99،بابِ مناقب ِعلی ۔
گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب45،صفحہ190۔
شخصیت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کی نظر میں
نہج البلاغہ کا اجمالی تعارف
نہج البلاغہ وہ عظیم المرتبت کتاب ہے جس کو دونوں فریق کے علماء معتبر سمجھتے ہیں، یہ مقدس کتاب امام علی علیہ السلام کے پیغامات اور گفتار کا مجموعہ ہے جس کو علامہ بزرگوار شریف رضی علیہ الرحمہ نے تین حصوں میں ترتیب دیا ہے جن کا اجمالی تعارف کچھ یوں ہے:
۱۔ حصہ اول: خطبات
نہج البلاغہ کاسب سے پہلا اور مہم حصہ امام علی علیہ السلام کے خطبات پر مشتمل ہے جن کو امام علیہ السلام نے مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے، ان خطبوں کی کل تعداد (۲۴۱ ) خطبے ہیں جن میں سب سے طولانی خطبہ ۱۹۲ ھے جو خطبہٴ قاصعہ کے نام سے مشہور ہے اور سب سے چھوٹا خطبہ ۵۹ ہے۔
۲۔ حصہ دوم: خطوط
یہ حصہ امام علیہ السلام کے خطوط پر مشتمل ہے، جو آپ نے اپنے گورنروں اور دوستوں، دشمنوں، قاضیوں اور زکوٰة جمع کرنے والوں کے لئے لکھے ہیں، ان سبب میں طولانی خط ۵۳ ہے جو آپ نے اپنے مخلص صحابی مالک اشتر کو لکھا ہے اور سب سے چھوٹا ۷۹ ہے جو آپ نے فوج کے افسروں کو لکھا تھا۔
۳۔ حصہ سوم: کلمات قصار
نہج البلاغہ کا آخری حصہ ۴۸۰ چھوٹے بڑے حکمت آمیز کلمات پر مشتمل ہے جن کو کلمات قصار کھا جاتا ہے ، یعنی مختصر کلمات، ان کو کلمات حکمت اور قصار الحِکم بھی کہا جاتا ہے ، یہ حصہ اگرچہ مختصر بیان پر مشتمل ہے لیکن ان کے مضامین بہت بلند پایہ حیثیت رکھتےہیں جو نہج البلاغہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگادیتے ہیں۔
مقدمہ
کسی شخصیت کی شناخت اور پہنچان کا سب سے مہم ذریعہ یہ ہے کہ وہ شخصیت اپنی پہچان خود کرائے، چونکہ ہر شخص اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت بہتر پہچانتا ہے ، اسی قاعدے کی بنا پر آئیں امام علی علیہ السلام کی شخصیت کو خود اُن کی زبان سے پہچانیں۔
چونکہ ایک طرف سے امام معصوم کی مکمل شناخت عام انسانوں کی قدرت سے باہر ہے اس لئے امام علی علیہ السلام کی ملکوتی شخصیت کو ان کے بیانات عالیہ سے پہچانیں اور اُن کی سیرت طیبہ کی معرفت حاصل کریں، اور اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں۔
البتہ یہاں پر ایک اعتراض ذہن میں آسکتا ہے کہ اپنی تعریف اپنے منھ کرنا اسلامی نقطہ نظر اور اسلامی تعلیمات کے مخالف ہے ، آیا امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں جو اپنی مدح و تعریف فرمائی ہے یہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے ؟
اس مختصر تحریر میں ہم اس اعتراض کا جواب بیان کریں گے تاکہ امام عالی مقام کی ملکوتی شخصیت اظہر من الشمس ہو جائے، انشاء اللہ، خداوندکریم ہماری مدد فرمائے اور اپنی توفیقات سے نوازے۔
پہلا باب
اپنی تعریف کی دلیلیں
اگر کوئی شخص اپنی ایسی تعریف کرے جو خلاف واقع ہو تو وہ قطعاً حرام ہے اور اگر وہ شخص اپنی تعریف کرنے میں سچا ہو اور تعریف حقیقت کے مطابق ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں:
ایک مرتبہ ایسی تعریف بیان کرنے کی مصلحت تقاضا نہیں کرتی، اسی صورت میں اگر کوئی شخص اپنی تعریف کرتا ہے تو یہ تعریف قابل مذمت ہے، لیکن اگر تعریف سچی ہو اور مصلحت بھی اس کا تقاضا کرے تو اس صورت میں اپنی تعریف کرنا ضروری ہے۔
اس مذکورہ بیان کی روشنی میں دیکھیں اور غور فرمائیں کہ امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اپنی جو تعریف بیان فرمائی ہے وہ صداقت پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ مصلحت نے اس کا تقاضا کیا تو امام علیہ السلام نے پہنچان اور شناخت کو لازم سمجھا، ہم ذیل میں چند دلیلوں کے پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت واضح اور روشن ہوجائے۔
۱۔ پہلی دلیل:اتمام حجت:
پیغمبر اکرم (ص)کی رحلت کے بعد ایسے حالات پیش آئے جن کی وجہ سے امام علی علیہ السلام کی شخصیت و مقام کو پس پشت ڈال دیا گیا، خلفاء کے پچیس سالہ دور حکومت میں امام علیہ السلام کی ملکوتی شخصیت کو ظلمت و تاریکی کے حجاب میں چھپادیا گیا۔
جب امام علیہ السلام کو ظاہری خلافت ملی اس وقت بھی اُن کو اندرونی جنگوں میں اُلجھا دیا گیا اس زمانہ میں امام علیہ السلام کو جس نسل کاسامنا کرنا پڑا وہ جوان نسل آپ کی شخصیت سے آگاہ نہیں تھی، اس وجہ سے امام علیہ السلام کے لئے ضروری تھا کہ آپ اس نسل جوان کے سامنے اپنا تعارف کرائیں اور اتمام حجت کریں تاکہ یہ جوان نسل اصحاب جمل و صفین کے فتنوں میں گمراہ نہ ہوجائیں، اس لئے امامِ امت ہونے کی بنا پر بھی امام علیہ السلام کے لئے ضروری تھا کہ اپنا تعارف کرائیں تاکہ لوگ آپ کی تعلیمات اور سیرت سے فیض حاصل کریں جیسا کہ انبیاء علیہم السلام بھی جب تشریف لاتے تھے تو سب سے پھلے اپنا تعارف کراتے تھے۔
دوسری دلیل: خدا کی نعمتوں پر شکر
امام علی علیہ السلام اپنی شخصیت کا تعارف اُن نعمتوں کے ذریعہ کراتے تھے جو خداوندعالم نے اپنے خصوصی فضل و کرم کی بنیاد پر امام علیہ السلام کو اُن نعمتوں سے مالامال فرمایا، امام علیہ السلام نعمت کی اہمیت اور نعمت دینے والے کی اہمیت کو بیان کرنے کے ساتھ اپنا تعارف یوں کراتے ہیں:
”میں ( علی) وہ ہوں جس نے عرب کے بڑے بڑے بہادروں کے چھکے چھڑا دئے تھے، میں وہ ہوں جس نے شرک کی آنکھیں نکال دیں اور عرش شرک کو لرزہ براندام کردیا، میں اپنے جہاد کے ذریعہ خدا پر کوئی احسان نہیں کرتا اور میں اپنی عبادت پر نازاں نہیں ہوں بلکہ میں اپنے پروردگار کی ان نعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں“۔(1)
تیسری دلیل: حقائق تاریخی بیان کرنا
ھر حادثہ اور واقعہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہوجاتا ہے ، تاریخ نگار اور تاریخ لکھنے والے اُس کو بعد والی نسلوں کی طرف منتقل کرتے ہیں، ابھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ انتقال کیسے انجام پاتا ہے، آیا حقیقت اور مثبت حوادث کو نقل کیا جاتا ہے یا حقائق پر پردہ ڈال کر جھوٹ اور فریب کے ذریعہ؟ جب اسلام جزیرة العرب میں پھیلا تو بہت سی تبدیلیاں اور انقلاب وجود میں آئے ، درحالیکہ امام علی علیہ السلام کا نقش ظہور اسلام میں خاص اہمیت کا حامل تھا۔
لیکن جب پیغمبر اعظم (ص) اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف چل بسے اور جہان اسلام کی ریاست و حکومت میں تبدیلی آئی تو کافی بزرگ شخصیات کا مقام گرا دیا گیا اور بہت سے لوگوں کو مقام جعلی دے دیا گیا حتی کہ اُن کے لئے جھوٹے فضائل کو گڑھا گیا اور امام علی علیہ السلام کو لوگوں کی نظروں میں گرانے کی سعی لاحاصل کی گئی، اسی وجہ سے جب امام علی علیہ السلام کو ظاہری خلافت ملی تو آپ پر لازم ہوگیا تھا کہ اپنی شناخت بھی کرادیں اورتاریخی حقائق سے پردہ اٹھادیں تاکہ آئندہ آنے والی نسل کے لئے آپ کی شخصیت منارہ نور بن کر مشعل راہ بن جائے۔
چوتھی دلیل: اپنی مظلومیت کا دفاع
جہان اسلام میں سیاسی تغیر و تبدل کی وجہ سے اجتماعی اور ثقافتی یلغار نے جنم لیا جس کا سب سے زیادہ اثر امام علی علیہ السلام کی شخصیت پر پڑا، چونکہ امام علیہ السلام اسلام کی مصلحت کی خاطر گوشہ نشین ہونے پر مجبور ہوگئے تھے، اس پُر آشوب دور میں بھی اپنی مظلومیت کو بیان کرتے رھے۔
خاص طور پر جب خوف زدہ کرنا اپنے عروج پر تھا اس زمانہ میں کچھ لوگ خوف و وحشت کی وجہ سے خاموش ہوگئے اور کچھ لوگ دنیا دار بن بیٹھے، اور اپنی زبانیں بند کرکے خاموشی اختیار کرلی، ایسے حالات میں علی علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کرانا کسی کے بس میں نہیں تھا، چونکہ امام علیہ السلام کے مخالفین نے جب حکومت کی باگ ڈور ھاتھ میں لے لی تو برملاٴ اور علی الاعلان امام پر تبراٴ کیا جانے لگا، اور دیگر اصحاب کے فضائل بیان ہونے لگے، ان حالات میں امام علی علیہ السلام کو پہنچان کرانا بہت ضروری تھا، یعنی امام علیہ السلام اس زمانہ میں اپنی مظلومیت کا دفاع کرتے رہے اور لوگوں کو حقیقت حال سے باخبر کرنے کے لئے اپنی شناخت اور پہچان کو ضروری سمجھا۔
مذکورہ چار دلیلوں کی بنا پر کھا جاسکتا ہے بلکہ کہنا ضروری ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی جو تعریف فرمائی ہے وہ تعلیمات اسلامی سے ذرا بھی مخالف نھیں ہے، بلکہ اسلامی اقدار کا دفاع ہے۔
دوسرا باب
شخصیت امیر المومنین نہج البلاغہ کی نظر میں
ابھی ہم امام علی علیہ السلام کی شخصیت کو انھیں کی زبانی بیان کرتے ھیں، آپ نے نہج البلاغہ میں جو آپ کے فرامین کا مجموعہ اور مقدس ترین کتاب ھے یہ ایسی با عظمت کتاب ھے جس کو دونوں فریق (سنی و شیعہ) کے علماء مقدس اور محترم سمجھتے ھیں، آپ نے اپنی شخصیت کا کچھ اس انداز میں تعارف کرایا ھے جو اختصار کے ساتھ آپ کے لئے باعث استفادہ ہیں۔
۱۔ عظمت علی (ع)پیغمبر اسلام کی نگاہ میں
(الف) علی (ع)، آغوش رسول(ص) کے پروردہ
امام علی علیہ السلام وہ ذات پُر برکت ہیں جن کو یہ فخر حاصل ھے کہ آپ کی پرورش رسول خدا (ص) کی آغوش میں ہوئی ہے، رسول خدا (ص) کی آغوش میں پرورش پانے والے کامل اور اکمل انسان نہج البلاغہ میں یوں فرماتے ہیں:
” وَقَدْ عَلِمْتُمْ مَوضَعِی مِن رَسُولِ الله بِالقَرَابَة القَرِیْبَةِ وَ المَنْزِلَةِ الخَصِیْصةَ وَضعنی ِفی حِجْرِہِ وَ اٴنَا وَلَدٌ یَضُمَّنِي إلیٰ صَدْرِہِ، وَ یَکْنُفْنِي فِی فَرَاشِہِ ۔۔۔ وَ کَان یَمْضَغُ الشَّی ثُمَّ یُلْقِمُنِیْہِ“۔ (2)
”امام علیہ السلام فرماتے ہیں (اے لوگو) تم رسول خدا کے ساتھ میری منزلت کو جانتے ہو،میں آپ کا قریبی رشتہ دار اور آپ کے خواص سے ھوں، رسول اللہ مجھے بچپن میں اپنی آغوش میں بٹھاتے تھے اور اپنے سینے سے لگایا کرتے تھے، مجھے اپنے ساتھ سلاتے تھے، میرا بدن آپ کے بدن سے مس ہوتا تھا میں آپ کی خوشبو سونگھتا تھا۔
رسول خدا (ص) غذا کو اپنے مبارک دانتوں سے چباکر میرے منھ میں رکھتے تھے، رسول خدا (ص) میرے کردار میں کسی قسم کا کذب یا خطا نہیں پاتے تھے، میں چھوٹا ہی تھا کہ خدا نے اپنے رسول کے ساتھ ایک فرشتہ کو مقرر فرمایا جو آپ کو دن رات اخلاق و کرامات کی طرف راہنمائی کرتا تھا میں بھی اونٹنی کے بچے کی مانند جو اپنی ماں کے پیچھے رہتا ہے، پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ ساتھ رہتا تھا، رسول اللہ (ص) مجھے ھر روز اچھے اخلاق سے ایک نقطہ تعلیم فرماتے اور مجھے اس پر عمل کرنے کا حکم دیتے تھے(3)
اس بیان سے واضح و روشن ہوجاتا ہے کہ امام علیہ السلام کی پرورش خود رسول اللہ نے فرمائی تھی، کیونکہ رسول خدا (ص) امام علیہ السلام کو اپنے مشن کا وراث جانتے تھے، اتنا اہتمام اس لئے فرمایا۔
(ب) علی (ع) آغاز وحی میں پیغمبر کے ساتھ
امام علی علیہ السلام وہ بلند مقام شخصیت ہیں جنہوں نے نور وحی کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایا اس لئے تو رسول ختمی مرتبت نے فرمایا تھا، اے علی جو میں دیکھتا ہوں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں جو میں سنتا ہوں وہ آپ بھی سنتے ہیں۔
امام علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
”وَ لَقَدْ کَانَ یُجَاوُرِ فِي کُلّ سَنَةٍ بِحْرَاءَ فَاٴرَاہُ وَلَا یَراہُ غَیرِي، وَلَمْ یَجْمَعْ بَیْتٌ وَاحِدٌ یَومَئِذٍ فِي إلاسُلَامِ غَیْرَ رَسُولَ الله (ص)، وَ خَدِیْجَةَ وَ اٴنَا ثَالِثُہُمَا“۔ (4)
”امام فرماتے ہیں رسول خدا (ص) ھر سال کچھ عرصہ غار حرا میں جایا کرتے تھے، میں ان کو دیکھتا تھا میرے علاوہ کوئی انہیں نہیں دیکھتا تھا، اُس زمانہ میں واحد گھر جس میں رسول خدا (ص)اور جناب خدیجہ اور تیسر ا میں تھا کوئی اور گھر میں نہیں تھا“۔
اس کے بعد فرماتے ہیں:
”اٴرَیٰ نُورَ الْوَحْيِ وَ الرِّسَالَةَ، وَ اٴشُمُّ رِیْحَ النَّبُوَةِ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشِّیْطَانِ حِیْنَ نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللهِ مَا ہَذِہِ الرَّنَّةُ، فَقَالَ (ص) ہٰذَا الشِّیْطَانُ قَدْ اٴیِسْ مِنْ عِبَادَتِہِ، إنَّکَ تَسْمَعُ مَا اٴَسْمَعُ وَ تَریٰ مَا اٴَریٰ إلاَّ اٴنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍ وَ لَکِنَّکَ لَوَزِیرٌ وَ اٴنَّکَ لَعَلیٰ خَیْرٍ“۔ (5)
”میں نے نور وحی اور نور رسالت کو دیکھا، رسول خدا (ص) کی دلپذیر خوشبو کو سونگھتا تھا، میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کے رونے کی آواز کو سنا، اور میں نے رسول اکرم (ص) سے پوچھا: یا رسول اللہ یہ کس کے رونے کی آواز ہے تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا: یہ شیطان رو رہا ہے چونکہ وہ آج سے اپنی عبادت سے مایوس ہوگیا ہے، اس کے بعد رسول (ص)نے فرمایا: یا علی جو میں سنتا ہوں آپ بھی سنتے ہیں، اور جو میں دیکھتا ہوں ، آپ بھی دیکھتے ہیں مگر آپ نبی نہیں ہیں، بلکہ میرے وزیر اور جانشین ہیں، اور آپ خیر پر ہیں“۔
قارئین کرام! ہم تمام امت اسلام کو چیلنج کرکے کہہ سکتے ہیں کہ آؤ ، رسول اسلام کے بعد کوئی ایسی شخصیت دکھاؤ جس کے بارے میں خود رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہو کہ آپ میرے جانشین اور وزیر ہیں، جو میں سنتا ہوں وہ آپ بھی سنتے ہیں جو میں دیکھتا ہوں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں، یہ فخر صرف اور صرف علی بن ابی طالب علیہ السلام کو حاصل ہے، لیکن دنیائے اسلام آج تک پریشان ہے کہ رسول اکرم (ص) کا حقیقی جانشین کون تھا، پس ہم یہ جملہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ علی علیہ السلام کل بھی مظلوم تھے اور آج بھی مظلوم ہیں۔
(ج) علی (ع)سب سے پھلے نماز پڑھنے والے
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
”اَللّٰہُمَّ اِنّي اٴوَّلَ مَنْ اٴَنَابَ وَ سَمِعَ وَ اٴجَابَ لَمْ یَسْبِقْنِی إلاَّ رَسول الله بالصَّلاة“۔ (6)
”میں وہ سب سے پہلا شخص ہوں جس نے رسول اکرم (ص) کی طرف رجحان پیدا کیا اور اُن کی دعوت کو سنااور قبول کیا، میں سب سے پہلا نماز گزار ہوں، رسول(ص) کے علاوہ کوئی شخص ”مجھ سے پہلا نمازی نہیں ہے“ اور مجھ سے سابق نھیں ہے۔
(د) علی (ع) جانثار رسول(ص)
امام علی علیہ السلام خطبہ نمبر ۱۹۷ میں ارشاد فر ماتے ہیں:
”وَ لَقَدْ عَلِمَ المُسْتَحْفِظُونَ مِنْ اٴصْحَابِ مُحَمَّدٍ (ص) اٴَنِّی لَمْ اَرُدُّ عَلیٰ الله وَ لَا عَلیٰ رَسُولِہِ سَاعَةً قَطُّ، وَ لَقَدْ وَاسَیْتُہُ بِنَفْسِي فِي المَوَاطِنِ الَّتِي تَنْکُصُ فِیْہَا الاٴبْطَالُ وَ تَتَاٴخَّرُ فِیْہَا الاٴقْدَامُ، نَجْدَةً اٴکْرَمَنِي الله بِہَا“۔ (7)
”اصحاب محمد میں سے صاحبان اسرار جانتے ہیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا و رسول (ص) کی مخالفت نہیں کی، بلکہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مشکل مقامات پر ان کی نصرت کی جہاں بڑے بڑے سورما بہاگ جاتے تھے، اور اُن کے قدم لڑکھڑا جاتے تھے، خدا نے اس شجاعت و دلیری کے ذریعہ میری لاج رکھی ”اور میں نے پیامبر کا دفاع کیا“۔
قارئین کرام!یہ وہ خصوصیات اور خوبیاں ہیں جو فقط امام عالی مقام کا طرہ امتیاز تھیں کوئی با شعور انسان اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتا، لیکن وہ لوگ جن کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں وہ کبھی حقیقت کو بیان نہیں کرسکتے اور نہ اس کو ہضم کرسکتے ہیں۔
حضرت علی (ع) کی علمی شخصیت
پیغمبر عظیم الشان اسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ“ ، جن افراد کو شہر علم تک پہنچنا ہے ان کو دو دفعہ علی (ع) کا محتاج ہونا ضروری ہے ایک دفعہ جاتے ہوئے اور دوسری مرتبہ واپس آتے ہوئے، امام علیہ السلام نہج البلاغہ میں اپنی علمی شخصیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
”فَاٴسْاٴلُوْنِي قَبْلَ اٴنْ تَفْقِدُوْنِي فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ لَاتَسْاٴلُوْنِي عَنْ شَيٍ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَ السَّاعَةِ وَ لَا عَنْ فِیٴةٍ تَہْدِي مِاَئةً وَ تُضِلُّ مِاَئةً إلاَّ اٴَنْبَاتُکُمْ بِنَاعِقَہَا وَ قَائِدَہَا وَ سَائِقِہَا“(8)
”مجھ سے بوچھ لو قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے، ممکن نہیں ہے کہ تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں جواب نہ دے سکوں، میں آج سے قیامت تک کے واقعات کی خبر دے سکتا ہوں، ایک گروہ جو سو بندوں کو ہدایت کرتا ہے یا سو بندوں کو گمراہ کرتا ہے وہ بھی بتا سکتا ہوں، اُن کے ہانکنے والے ان کے رہبروں اور ان کے سربراہوں کے بارے میں مطلع کرسکتاہوں“۔
قارئین کرام! یہ کلمات امام علی علیہ السلام کے علم کی ایک جھلک ہے، اور شاہد ہے کہ کائنات میں آپ جیسا عالم نہ تھا نہ ہوگا، اور یہ آپ کی اولویت پر واضح دلیل ہے۔
۳۔حضرت علی اور شہادت طلبی
کبھی آپ نے میدان جنگ سے فرار نہ فرمایا، نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۲ میں فرماتے ہیں:
”وَ مِنَ الْعَجَبِ بَعْثُہُمْ إلیٰ اٴنْ اٴبْرَزَ لِلطَّعَانِ! وَ اٴنْ اٴَصْبِرْ لِلْجَلَادِ، ہَبَلَتْہُمْ الہَبُوْلُ، لَقَدْ کُنْتُ َو مَا اٴَہَدَّدَ بِالْحَرْبِ وَ لَا اٴَرْہَبُ بِالضَّرْبِ، وَ اِنِّي لَعَلیٰ یَقِیْنٍ مِنْ رَبِّي وَ غَیْرَ شُبْہَةٍ مِنْ دِیْنِي“۔(9)
”مجھے تعجب ہے اُن پر جو مجھ سے چاہتے ہیں کہ میں ان کے نیزوں کے سامنے حاضر ہوجاؤں، اور ان کی تلوار کے سامنے صبر کروں، سوگواران کے غم میں روئیں، میں نہ جنگ سے ڈرتا ہوں اور نہ تلوار سے خوف زدہ ہوں، میں خدا پر یقین رکھتاہوں، اور شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں“۔
یہ کلمات امام علیہ السلام کے شوق شھادت پر واضح شاھد ھیں۔
۴۔ حضرت علی (ع)کی عدالت
امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
”وَ الله لَقَدْ رَاٴئتُ عَقِیْلاً وَ قَدْ اٴمْلَقَ حَتیّٰ اَسْتَمَاحَنِي مِن بُرِّکُمْ صَاعاً وَ رَائتُ صِبْیَانَہُ شُعْثَ الشُّعُوْرِ غَبِرَ الاٴلْوَانِ مِنْ فَقْرِہِمْ کَاٴنَّمَا سوِّدَتْ وُجُوْہُہُمْ بِالْعَظْمِ وَ عَاوَدَنِي مُوٴَکِّداً“۔ (10)
”خدا کی قسم میں نے دیکھا کہ میرا بھائی عقیل تنگ دست ہے، اور اُس نے مجھ سے درخواست بھی کی کہ بیت المال سے کچھ وظیفہ بڑھادیں اور میں نے ان کے بچوں کو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے اُن کے بال اور رنگ متغیر ہوچکا تھا، عقیل نے بار بار اصرار بھی کیا۔۔۔ تاکہ میں عدالت سے ہاتھ اٹھالوں، لیکن میں نے لوہے کی گرم سلاخ کو عقیل کی طرف بڑھایا، عقیل چونکے، اے بھائی مجھے آگ سے جلانا چاہتے ہو تو میں نے کہا: اے عقیل تم دنیا کی آگ میں جلنا پسند نہیں کرتے لیکن مجھے جہنم کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہو جو زیادہ سخت ہے“۔
اسے عدالت محوری کھا جاتا ہے کہ سگے بھائی کو جو تنگدست بھی ہے بیت المال سے زیادہ دینا گوارہ نہیں کیا جاتا۔
۵۔ حضرت علی (ع) کا زہد و تقویٰ
امام علی علیہ السلام کے زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کو خبر دی گئی کہ عثمان بن حنیف جو بصرہ کا گورنر تھا وہ کسی ایسی دعوت میں اور ایسی محفل میں شامل ہوئے ہیں جہاں سب اُمراء شریک تھے، اس میں غریب نہ تھے، تو امام علی علیہ السلام نے اس کے پاس ایک خط لکھا اور متنبہ کرتے ہوئے فرمایا:
”اَلاَ وَ إنَّ لِکُلِّ مَامُوْمٍ اِمَاماً یَقْتَدِي بِہِ۔۔۔ اِلاَّ وَ اِنَّ اِمَامَکُمْ قَدْ اِکْتَفیٰ مِنْ دُنْیَاہُ بِطِمْرَیْہِ وَمِنْ طَعْمِہِ بِقُرْصَیْہِ“۔ (11)
”اے حنیف کے بیٹے!“ آگاہ رہو کہ ہر ماموم کے لئے ایک امام ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور اس کے علم کے نور سے روشنی حاصل کرتا ہے، کیا تمہیں نہیں معلوم آپ کا امام دنیا سے دو پُرانے کپڑے پہن کر اور دو خشک روٹیاں کہا کر گزر بسر کرتا ہے، (اور تم ایسی دعوت میں شریک ہوتے ہو)
۶۔ نیاز مندوں کے ساتھ ہمدردی
امام علی علیہ السلام محتاج اور نیازمند لوگوں کے ساتھ ہمدردی فرماتے تھے، چنانچہ آپ ہی کا فرمان ہے:
”اَ اٴَقْنَعَ مِنْ نَفْسِي بِاٴنْ یُقَالُ ہَذَا اٴمِیْرُ الْمُوْمِنِیْنَ وَ لَا اُشَارِکْہُم فِي مَکَارِہِ الدَّہْرِ“۔ (12)
”کیا میں اس بات پر اپنے نفس کو قانع کرلوں کہ مجھے امیر المومنین کہا جائے، جبکہ ان کی مشکلات اور تلخیوں کے ساتھ شریک نہ ہوں، بلکہ میں مشکلات میں ان کے لئے نمونہ بنوں گا، میں ”علی“ لذیذ غذا کھانے کے لئے پیدا نھیں ہوا ہوں جیسا کہ حیوانات کا پورا ہم و غم چارہ اور گھاس ہوتاہے۔
امام علی علیہ السلام مقصد خلقت کو درد بانٹنے اور ہمدردی انسانیت کے اندر پیادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، یعنی انسان کو عیش و عشرت کے لئے خلق نہیں کیا گیا ہے، بلکہ انسانیت کی ہمدردی کے لئے خلق کیا گیا ہے، یہی تو انسانیت کا امتیاز ہے۔
۷۔حضرت علی (ع)اور حق محوری
امام علیہ السلام حق پرست، حق جو، حق دوست اور حق گو تھے، جیسا کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: ”علی مع الحق، و الحق مع علی“، علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع)کے ساتھ ہے، امام علیہ السلام کو پورا جہاد حق کے قیام کے لئے تھا، چنانچہ آپ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
”وَ الله لَہِیَ اٴحَبُّ إلَیَّ مِنْ إمْرَ تِکُمْ إلاَّ اٴَنْ اٴُقِیْمَ حَقّاً اٴوْ اٴَدْفَعَ بَاطِلاً“۔ (13)
”قسم بہ خدا! میرے اس جوتے کی قیمت تم پر حکومت کرنے سے زیادہ ہے مگر یہ کہ اس کے ذریعہ سے حق کو قائم کرسکوں اور باطل کو مٹا سکوں“۔
اس کے بعد اسی خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
”فَلا نْقَبَنَّ الْبَاطِلَ حَتّیٰ یَخْرُجُ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِہِ“۔ (14)
”میں باطل کو شگافتہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں“۔
قارئین کرام! ان جملوں کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی حق دوستی اور حق محوری روشن ہوجاتی ہے۔
۸۔ حضرت علی اور وداع پیغمبر(ص)
امام علی علیہ السلام پیغمبر اسلام کے فدا کار سپاہی اور جانثار ساتھی تھے، اور آخری لمحات تک پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت ِاقدس میں رہے، یہاں تک کہ رسول اکرم (ص) کی رحلت کے وقت وداع کرنے والے بھی آپ ہی تھے، وداع پیغمبر کو نہج البلاغہ میں یوں فرماتے ہیں:
”وَ لَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ (ص) وَ إنَّ رَاسَہُ لَعَلٰی صَدْرِي، وَ لَقَدْ سَاٴَلَتْ نَفْسَہُ فِي کَفِّی فَاٴَمْرَرْتُہَا عَلیٰ وَجْہِي وَ لَقَدْ وَلَّیْتُ غُسْلَہُ وَ الْمَلَائِکَةُ اٴَعْوَانِي، فَضَجَّتِ الدَّارُ وَ الاٴَفْنیةُ مَلاٌ یَہْبِطُ وَ مَلاٌ یَعْرُجُ وَ مَا فَارَقَتْ سَمْعِي ہَیْنَمَةُ مِنْہُمْ یَصَلُّوْنَ عَلَیْہِ“۔ (15)
”جب رسول خدا (ص) کی روح قبض ہوئی ان کا سر میرے سینے پر تھا، میرے ہاتھوں پر انہوں نے جان دی، میں نے ہی پیغمبر کو غسل دیا جبکہ ملائکہ میری مدد کررہے تھے، فرشتوں کی رونے کی آواز در و دیوار سے آرہی تھی، ان ملائکہ کا ایک گروہ نازل ہوتا تھا ایک آسمان کی طرف جاتا تھا، اُن کی دھیمی آواز میں سن رہا تھا جس کے ساتھ وہ پیغمبر پر دورد پڑھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ پیغمبر اکرم (ص) کو سپرد خاک کردیا گیا، لہٰذا رسول اسلام (ص) کی زندگی اور موت کے بارے میں مجھ سے بڑھ کر کوئی شخص آنحضرت (ص) کے قریب نہ تھا“۔
قارئین کرام! پیغمبر اکرم (ص) کی پوری زندگی میں علی علیہ السلام آپ کے محافظ اور جانثار کے طور پر آپ کی حفاظت میں مشغول رہے ہر میدان میں آپ کی آواز پر لبیک کہتے رہے یہاں تک رحلت کے موقع پر جب سب حضرات آپ کا جنازہ چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ میں چلے گئے لیکن وارث رسول غسل و کفن میں مصروف رہا، ان روشن دلیلوں کے با وجود جو آپ کے وارث رسول ہونے میں شک کرے وہ شخص اپنی قسمت پر گریہ کرے، امام علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں یہ چند معروضات تھیں ، اختصار کو مد نظر رکھتےہوئے اسی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔خداوندعالم ہمیں آپ کے پیرو حقیقی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
ماخذ
[1] شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید، ج۲۰، ص ۲۹۶۔
[2] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[3] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[4] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[5] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[6] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۳۱۔
[7] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۷۔
[8] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
[9] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۲۔
[10] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۴۔
[11] نہج البلاغہ ، خطبہ ۴۵۔
[12] نہج البلاغہ ، خط نمبر ۴۵۔
[13] نہج البلاغہ ، خطبہ ۳۳۔
[14] نہج البلاغہ ، خطبہ ۳۳۔
[15] نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۷
|
|