|
PAMPOSH
|
||
|
اسلام دین رحمت، رسول الله شمع ہدایت، علی ذات ولایت |
امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے ہارون رشید سے کس طرح ملاقات کی؟
جواب : ہارون رشید اپنی وسیع اور قدرت مند طاقت کے باوجود اس بات کا احساس کرتا تھا کہ ابھی بھی لوگوں کے دل ساتویں امام موسی کاظم (علیہ السلا) کے پاس ہیں ، اس وجہ سے وہ بہت ناراض رہتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ کسی طرح سے امام کے اس اثر و رسوخ کو ختم کردے ۔ وہ اس بات کو برداشت نہیں کرپاتا تھا کہ روزانہ اس سے کہا جائے کہ لوگ اپنے اسلامی ٹیکس کو مخفی طور پر موسی بن جعفر کو دیتے ہیں اور اپنے اس عمل سے حقیقت میں ہارون کی حکومت کو اصلی حکومت نہیں سمجھتے اور عباسی حکومت سے نفرت کرتے ہیں ، یہی وجہ تھی کہ ایک مرتبہ ہارون رشید نے جب خانہ کعبہ کے نزدیک حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقات کی توکہنے لگاتم ہی ہوجن کی لوگ چھپ چھپ کربیعت کرتے ہیں امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایاکہ ہم دلوں کے امام ہیں اورآپ جسموں کے(١)۔ ہارون واضح طور پر اپنے آپ کو مقام رسالت سے منتسب کرتا تھا اور جب بھی موقع غنیمت سمجھتا تھا اس کو بیان کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ ہارون رشیدحج کرنے کے بعد مدینہ منورہ آیا اور زیارت کے لیے روضہ مقدسہ نبوی پرحاضرہوا اس وقت اس کے گردقریش اوردیگر قبائل عرب جمع تھے، نیز حضرت امام موسی کاظم بھی ساتھ تھے ہارون رشیدنے حاضرین پر اپنا فخر ظاہر کرنے کے لیے قبرمبارک کی طرف ہوکرکہا، سلام ہوآپ پر ائے رسول اللہ ،اے ابن عم(میرے چچازادبھائی) (٢) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ سلام ہو، آپ پرائے میرے پدربزرگوار! یہ سن کرہارون کے چہرہ کارنگ فق ہوگیااور بے اختیار کہنے لگا کہ واقعا یہ افتخار ہے (٣) ۔ وہ صرف اپنے آپ کو مقام رسالت سے منتسب کرنے کی کوشش نہیں کرتا تھا بلکہ ان بزرگواروں کو اولاد پیغمبر ہونے سے انکار کرتا تھا ۔ ایک روز ہارون رشیدنے امام موسی کاظم علیہ السلام سے پوچھاکہ تم کس دلیل سے کہتے ہوکہ ہم رسول اللہ کی ذریت ہیں حالانکہ تم علی کی اولاد ہو اور ہر شخص اپنے دادا سے منتسب ہوتا ہے ناناسے منتسب نہیں ہوتا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائے کریم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے ""ومن ذریتہ داؤد وسلیمان وایوب وزکریاویحی وعیسی"" اورظاہرہے کہ حضرت عیسی بے باپ کے پیداہوئے تھے توجس طرح محض اپنی والدہ کی نسبت سے ذریت انبیاء میں ملحق ہوئے اسی طرح ہم بھی اپنی مادرگرامی حضرت فاطمہ کی نسبت سے جناب رسول خداکی ذریت ٹہرے(٥) پھرفرمایا کہ جب آیہ مباہلہ نازل ہوئی تومباہلہ کہ وقت پیغمبرنے سواعلی اورفاطمہ اورحسن وحسین کے کسی کونہیں بلایا اوربفحوائے ""ابنانا"" حضرت حسن وحسین ہی رسول اللہ کے لیے بیٹے قرارپائے۔
اسی طرح امام مو سی کاظم (علیہ السلام) نے ہارون رشید سے بہت ہی مفصل مناظرہ انجام دیا اور اس کے اس سوال کے جواب میں کہ تم اپنے آپ کو فرزند رسول کیوں کہتے ہو ، فرمایا : اگر پیغمبر اکرم (ص) زندہ ہوجائیں اور تمہاری بیٹی سے رشتہ بھیجیں تو کیا تم اپنی بیٹی کی پیغمبر اکرم (ص) سے شادی کرو گے ؟ اس نے کہا صرف شادی ہی نہیں کروں گا بلکہ اس رشتہ پر تمام عرب و عجم پر افتخار کروں گا ۔ امام نے کہا لیکن یہ بات میرے متعلق صادق نہیں ہے کیونکہ نہ پیغمبر اکرم (ص) میری بیٹی سے رشتہ بھیج سکتے ہیں اور نہ میں اپنی بیٹی کی ان سے شادی کرسکتا ہوں کیونکہ میں ان کی نسل سے ہوں اور یہ شادی حرام ہے ، لیکن تو ان کی نسل سے نہیں ہے ،ہارون نے کہا ، آفرین، کامل طور پر صحیح ہے ! (٦) ۔
ایک روز ساتویں امام علیہ السلام کو ہارون کے بہت ہی عظیم الشان محل میں بلایا گیا ۔ ہارون جو کہ قدرت اور حکومت کے نشے میں مست تھا اپنے قصر کی طرف اشارہ کرکے تکبر سے کہنے لگا : یہ قصر کس کا ہے ؟ اس جملہ سے وہ اپنی حکومت اور قدرت کو امام کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا امام علیہ السلام نے اس کے پُر زرق و برق قصر کی طرف توجہ کئے بغیر بہت ہی صراحت کے ساتھ فرمایا : یہ گھر ، فاسقوں کا گھر ہے ، جن کے متعلق خداوندعالم نے فرمایا ہے : ""سَأَصْرِفُ عَنْ آیاتِیَ الَّذینَ یَتَکَبَّرُونَ فِی الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ِنْ یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لا یُؤْمِنُوا بِہا وَ اِنْ یَرَوْا سَبیلَ الرُّشْدِ لا یَتَّخِذُوہُ سَبیلاً وَا ِنْ یَرَوْا سَبیلَ الغَیِّ یَتَّخِذُوہُ سَبیلاً ذلِکَ بِأَنَّہُمْ کَذَّبُوا بِآیاتِنا وَ کانُوا عَنْہا غافِلینَ"") (٧) ۔ میں عنقریب اپنی آیتوں کی طرف سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو روئے زمین میں ناحق اکڑتے پھرتے ہیں اور یہ کسی بھی نشانی کو دیکھ لیں ایمان لانے والے نہیں ہیں -ان کا حال یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ دیکھیں گے تو اسے اپنا راستہ نہ بنائیں گے اور گمراہی کا راستہ دیکھیں گے تو اسے فورا اختیار کرلیں گے یہ سب اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے اوران کی طرف سے غافل تھے ۔ہارون اس جواب سے بہت ناراض ہوا اور اپنے غصہ کو چھپاتے ہوئے کہنا لگا : پھر یہ گھر کس کا ہے ؟ امام نے فورا فرمایا : اگر حقیقت معلوم کرنا چاہتے ہو تو یہ گھر ہمارے ماننے والوں اور شیعوں کا حق ہے ،لیکن دوسروں نے زور زبردستی اور طاقت سے اس پر قبضہ کرلیا ہے ۔ اگر یہ گھر شیعوں کا ہے تو پھر صاحب خانہ اس کو واپس کیوں نہیں لیتا ؟ یہ گھر آباد ہوتے وقت اس کے اصلی مالک سے لے لیا گیا ہے اور جب بھی اس کو آباد کرنا چاہیں گے واپس لے لیں گے (٨) (٩) ۔
حاشیہ:
(۱) . انا امام القلوب و انت امام الجسوم. (ابن حجر هيتمى، الصواعق المحرقه، قاهره، مكتبه القاهره، ص ۲۰۴).
(۲) . السلام عليك يا رسول الله، السلام عليك يا ابن عم!
(۳) . السلام عليك يا رسول الله، السلام عليك يا ابه (شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى، ص ۲۹۸-ابن اثير الكامل فى التاريخ، بيروت، دارصادر، ج ۶،ص ۱۶۴- ابن اثير، البدايه والنهايه، ط ۲، بيروت، مكتبه المعارف، ۱۹۷۷ م، ج ۱۰، ص ۱۸۳- ابن حجر هيتمى، همان كتاب، ص ۲۰۴).
(۴) . سوره انعام: ۸۵ و ۸۶.
(۵) . شبلنجى، نورالأبصار، قاهره، مكتبه المشهد الحسينى، ص ۱۴۹-ابن صبّاغ مالكى، الفصولالمهمه، نجف، مكتبه دار الكتب التجاريه، ص ۲۲۰-ابن حجر هيتمى، همان كتاب، ص ۲۰۳. امام در اين گفتگو غير از آيه مزبور با آيه مباهله نيز استدلال كرد كه طى آن امام حسن و امام حسين با تعبير «ابنائنا» فرزندان پيامبر شمرده شدهاند (۶) . مجلسى، همان كتاب، ج ۴۸، ص ۱۲۷.
(۷) . « سوره اعراف: ۱۴۶.
(۸) . مجلسى، همان كتاب، ج ۴۸، ص ۱۳۸ - عياشى، تفسير عياشى، قم، المطبعه العلميه، ج ۲، ص ۳۰.
(۹) . گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص ۴۳۱.
امام صادق (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد آپ کا علمی قیام کس طرح محفوظ رہا؟
اوضاع و احوال کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر طرح کا گرم اقدام اور ایسا پروگرام انجام دینے کی صلاح نہیں تھی جس سے متعلق منصور کی حکومت شروع ہی سے حساس تھی ۔ اس وجہ سے امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے اپنے والد گرامی کی علمی کاوشوں کو آگے بڑھایا اور ایک حوزہ علمیہ تشکیل دیا ، بہت سے بزرگ شاگردوں اوربا علم وفضیلت افراد کی تربیت کی ۔
سید بن طاووس لکھتے ہیں : امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے خاص شیعہ اور خاندان ہاشمی کے افراد آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ کے زرین اقوال اور وہاں پر موجود افراد کے سوالوں کے جوابات کو لکھتے تھے اور آپ جو حکم صادر فرماتے تھے اس کو محفوظ کرتے تھے (١) ۔
سید امیر علی لکھتے ہیں : ١٤٨ ہجری میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی شہادت ہوئی لیکن آپ کا علمی مدرسہ بند نہیں ہوا بلکہ آپ کے بیٹے اور جانشین امام موسی کاظم (علیہ السلام) کی رہبری میں آگے بڑھا اور محفوظ رہا (٢) ۔
موسی بن جعفر نے نہ صرف علمی لحاظ سے اس وقت کے تمام علمی رجال اور علماء کو اپنے تحت الشعاع میں قرار دیا بلکہ اخلاقی فضائل اور انسانی برجستہ صفات کے لحاظ سے بھی آپ کی شخصیت اس قدر زبان زد عام و خاص تھی ، کہ جو عالم بھی آپ کی پُرافتخار زندگی سے آشنائی رکھتا ہے وہ آپ کی اخلاقی شخصیت کے سامنے سرتعظیم خم کرلیتا ہے ۔
اہل سنت کا مشہور محدث اور عالم ابن حجرہیتمی نے لکھا ہے :
موسی کاظم (علیہ السلام) اپنے والد کے علوم کے وارث اور بہت زیادہ افضل و اکمل تھے ۔ آپ کی بہت زیادہ عفو و بخشش نے آپ کو ""کاظم"" کا لقب دیا اور آپ کے زمانہ میں کوئی بھی علم و معارف اور آپ کی عفو و بخشش میں آپ کے برابر نہیں تھا (٣) ۔ (٤) ۔
حاشیہ:
۱. حاج شيخ عباس قمى، الأنوارالبهيه، مشهد، مؤسسه منشورات دينى مشهد، ص ۱۷۰. ۲. مختصر تاريخالعرب، ط ۲، تعريب: عفيف البعلبكى، بيروت، دارالعلم للملايين،۱۹۶۷ م، ص ۲۰۹. ۳. الصواعق المحرقه، قاهره، مكتبه القاهره، ص ۲۰۳. ۴. گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص ۴۱۵.
امام موسی کاظم علیہ السلام اور شراب کی حرمت پر استدلال
امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے مہدی عباسی کے لئے قرآن کریم سے شراب کے حرام ہونے پر کس طرح استدلال کیا ؟
مہدی عباسی کی شیعوں سے مخالفت کا ایک نمونہ وہ گفتگو ہے جو اس کے اور امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے درمیان مدینہ میں واقع ہوئی ۔ ایک سال مہدی عباسی مدینہ میں وارد ہوا اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کرنے کے بعدامام موسی کاظم (علیہ السلام) سے ملاقات کی اور اپنے خام خیال میں امام علیہ السلام) کو علمی لحاظ سے آزمانے کے لئے قرآن کریم میں شراب کے حرام ہونے کی بحث کو امام علیہ السلام سے سوال کیا :
کیا قرآن مجید میں شراب حرام ہے ؟ اس کے بعد مزید کہا : اکثر لوگوں کو معلوم ہے کہ قرآن کریم میں شراب پینے کو منع کیا گیا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ اس نہی کے معنی ، شراب کا حرام ہونا ہے !
امام علیہ السلام) نے فرمایا : جی ہاں ! قرآن مجید میں صریح طور پر شراب پینے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔
قرآن کریم میں کس جگہ؟
جہاں پر خداوند عالم نے (پیغمبر اکرم (ص) کو خطاب کرکے) فرمایا ہے : ""قُلْ ِنَّما حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَواحِشَ ما ظَہَرَ مِنْہا وَ ما بَطَنَ وَ الِْثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَق وَ أَنْ تُشْرِکُوا بِاللَّہِ ما لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطاناً وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَی اللَّہِ ما لا تَعْلَمُون "" ۔ کہہ دیجئے کہ ہمارے پروردگار نے صرف بدکاریوں کو حرام کیا ہے چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی .... اور گناہ اور ناحق ظلم اور بلادلیل کسی چیز کو خدا کا شریک بنانے اور بلاجانے بوجھے کسی بات کو خدا کی طرف منسوب کرنے کو حرام قرار دیا ہے (١) ۔
پھر امام علیہ السلام نے اس آیت میں دوسرے حرام شدہ چند موضوعات کو بیان کرنے کے بعد فرمایا :
اس آیت میں ""اثم"" سے مراد جس کو خداوندعالم نے حرام قرار دیا ہے ، شراب ہے کیونکہ خداوندعالم نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : ""یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فیہِما ِثْم کَبیر وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ ِثْمُہُما أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِما"" ۔ یہ آپ سے شراب اورجوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ فائدے سے کہیں زیادہ بڑا ہے(٢) ۔
سورہ اعراف میں ""اثم"" صریح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اور سورہ بقرہ میں ""اثم"" شراب اور جوئے کے متعلق استعمال ہوا ہے ، اس بناء پر قرآن مجید میں شراب صریح طور پر حرام قرار دی گئی ہے (٣) ۔
مہدی اس جواب سے بہت ناراض ہوا اور اپنے غصہ کو برداشت کرتے ہوئے کہنالگا : صحیح کہتے ہو ائے رافضی !! (٥) ۔ (٦) ۔
حاشیہ:
۱. سوره اعراف: ۳۳.
۲.سوره بقره: ۲۱۹.
٣۔ گویا اس کی مراد یہ تھی کہ بنی ہاشم کے درمیان جو قرابت پائی جاتی ہے اسی قرابت کے ذریعہ امام موسی کاظم (علیہ السلام) کا علم ، مہدی کے لئے بھی افتخار کا سبب ہے ۔
۴. كلينى، الفروع من الكافى، تهران، دارالكتب الاسلاميه، ج ۶، ص ۴۰۶.
۵. مسعودى، مروجالذهب، بيروت، دار الأندلس، ج ۳، ص ۳۲۴.
۶. گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص ۴۲۰
علی بن یقطین کون ہیں؟
علی بن یقطین ،ساتویں امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے ممتاز شاگرد تھے ۔ علی بہت ہی پاک و پاکیزہ اور گرانقدر شخص تھے اور امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے نزدیک بہت ہی بلند وبالا مقام رکھتے تھے ۔ شیعوں کے یہاں ان کا بہت زیادہ احترام پایا جاتا ہے (١) ۔ علی بن یقطین کی بنی امیہ کی حکومت کے اختتام پر ١٢٤ ہجری میں شہر کوفہ میں ولادت ہوئی ۔ ان کے والد یقطین بنی عباس کے طرفدار تھے ، اسی وجہ سے (بنی امیہ کے خلیفہ ) ""مروان بن حمار"" نے ان کو گرفتار کرنا چاہا لیکن یہ فرار ہوگئے ۔ یقطین کی زوجہ اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنے دونوں بیٹوں "" علی اور عبید"" کو لے کر مدینہ چلی گئیں، بنی امیہ کی حکومت کے زوال اور بنی عباس کے حکومت سنبھالنے کے بعد یقطین کوفہ میں واپس آگئے اور ""ابوالعباس سفاح"" کے ساتھ مل کئے ۔ ان کی زوجہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ کوفہ واپس آگئیں (٢) ۔ جی ہاں ! علی بن یقطین نے کوفہ میں پرورش پائی اور ساتویں راہنما امام موسی کاظم (علیہ السلام) کے شاگردوں میں قرار پائے ۔ علم رجال اور مورخین کے علماء کی گواہی کے مطابق علی بن یقطین کا شمار امام موسی کاظم کے برجستہ اور ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے اور انہوں نے آپ سے بہت زیادہ استفادہ اور بہت سی احادیث نقل کی ہیں لیکن امام صادق (علیہ السلام) سے صرف ایک حدیث نقل کی ہے (٣) ۔ (ان کی شخصیت بہت ہی مشہور تھی اور آپ کاشمار اپنے زمانہ کے علمی افراد میں ہوتا تھا ، آپ کی مندرجہ ذیل تالیفات ہیں :
١۔ ما سئل عنہ الصادق (علیہ السلام) من الملاحم (٤) ۔
٢۔ مناظرہ الشاک بحضرتہ (٥)۔
٣۔ وہ مسائل جو امام موسی کاظم (علیہ السلام) سے حاصل کئے تھے (٦) ۔
علی بن یقطین نے اپنے سیاسی اور اجتماعی مقام سے استفادہ کرتے ہوئے شیعوں کی بہت زیادہ خدمتیں انجام دیں، آپ شیعوں کے لئے ایک پناہ گاہ شمار ہوتے تھے ۔ علی بن یقطین نے امام موسی کاظم (علیہ السلام) کی مرضی سے ہارون کی وزارت کا عہدہ قبول کیا تھا (٧) ۔ اس کے بعد کئی مرتبہ استعفی دینا چاہا لیکن امام (علیہ السلام) نے ان کو منع اس ارادہ سے منصرف کردیا (٨) ۔ علی بن یقطین کو اسی منصب پر باقی رہنے کے لئے امام (علیہ السلام) نے اس لئے تشویق کی تھی تاکہ شیعوں کی جان، مال اور حقوق محفوظ رہیں اور ان کا پوشیدہ قیام چلتا رہے ۔ امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : تم مجھے ایک چیز کی ضمانت دو تو میں تمہیں تین چیزوں کی ضمانت دوں گا :
١۔ کبھی بھی تلوار (دشمن کے ہاتھ ) سے قتل نہیں ہوگے ۔ ٢۔کبھی بھی فقیر اور تنگ دست نہیں ہوگے ۔ ٣۔ کبھی بھی قیدخانہ میں قید نہیں ہوگے ۔ لیکن جس چیز کی تم مجھے ضمانت دو وہ یہ ہے کہ کبھی بھی کوئی بھی شیعہ اگر تمہارے پاس آئے اور اس کو جو بھی کام ہو ،اس کو تم انجام دو گے اور اس کی عزت و احترام کروگے ۔ علی بن یقطین نے قبول کرلیا ، امام نے بھی مذکورہ شرائط کی ضمانت دی (٩) ۔ اسی گفتگو کے ضمن میں امام (علیہ السلام) نے فرمایا : شیعوں کے لئے تمہارا یہ عہدہ عزت کا سبب ہے اور امید ہے کہ خداوندعالم تمہارے ذریعہ سے شکست کی تلافی کرے گا اور مخالفین کے فتنہ کی آگ کو خاموش کرے گا ۔
جی ہاں ! علی بن یقین نے اپنے وعدہ کو پورا کیا اور جب تک اس عہدہ پر باقی رہے شیعوں کے لئے مطمئن اور ثابت قلعہ کی طرح شمار ہوتے رہے اور ان مشکل حالات میں شیعوں کے استقلال اور ان کی زندگی کو محفوظ کرنے کے لئے بہت ہی موثر کردار ادا کیا ۔ علی بن یقطین امام (علیہ السلام) کے وفادار اور بہترین دوست تھے ، شیعوں کی عہد شکنی کے باوجود علی بن یقطین نے ہارون کا اعتماد حاصل کیا اور اسلامی ممالک پر اس کی حکومت کی وزارت کا عہدہ حاصل کیا ، تمام امکانات کے ذریعہ شیعوں کی ہر طرح کی مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے ، خاص طور سے شیعوں کی مالی بنیاد اور اپنے مال کا خمس (جو کہ بہت بڑی رقم ہوتی تھی اور کبھی کبھی یہ رقم ایک لاکھ سے تین لاکھ درہم تک ہوتی تھی)(١٠) امام موسی کاظم (علیہ السلام) تک پہنچاتے تھے اور ہم جانتے ہیں کہ خمس حقیقت میں اسلامی حکومت کی مالی پشت پناہ ہے ، علی بن یقطین کہتے ہیں : امام موسی کاظم (علیہ السلام) کو جس چیز کی ضرورت ہوتی تھی یاجو بھی اہم کام پیش آتا تھا تو میرے والد کو خط لکھتے تھے کہ فلاں چیز میرے لئے خرید کر بھیج دو ، یا فلاں کام انجام دو ، لیکن اس کام کو ہشام بن حکم کے ذریعہ انجام دو ، اہم اور حساس مواقع پر ہشام کی مدد لیتے تھے (١١) ۔
جس سفر میں امام موسی کاظم (علیہ السلام) عراق گئے تو علی نے اپنے کام اور حال و احوال کی امام سے شکایت کی اور کہا : کیاآپ میری حالت کو دیکھ رہے ہیں (میں کس حکومت میں ہوں اور لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہوں ) امام نے فرمایا : خداوندعالم اپنے محبوب اور پسندیدہ افراد کو ظالموں کے درمیان قرار دیتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کی حمایت کرے اور تم خدا کے ان محبوب بندوں میں سے ایک ہو (١١) ۔دوسری مرتبہ جب جب علی بن یقطین نے بنی عباس کی مدد کرنے کے متعلق امام موسی کاظم (علیہ السلام) سے اپنا حکم دریافت کیا توامام نے فرمایا : اگر اس کام کو کرنے پر مجبور ہو تو شیعوں کے اموال کی حفاظت کرو ۔ علی بن یقطین نے امام کے حکم کو قبول کرلیا اور اسی حکم کے مطابق ظاہری طور پر شیعوں سے ٹیکس وصول کرتے تھے اورمخفی طور پر ان کو واپس کردیتے تھے (١٢) ۔اوراس کی وجہ یہ تھی کہ ہارون کی حکومت ،اسلامی حکومت نہیں تھی کہ جس کے قوانین کی رعایت کرنا مسلمانوں پر واجب ہو ۔ خداوند عالم کی طرف سے حکومت اور ولایت امام موسی بن جعفر (علیہ السلام) کا حق تھا جس کو علی بن یقطین ان کے حکم سے شیعوں کے مال کو واپس کردیتے تھے (١٣) ۔
تاریخ میں علی بن یقطین کا ایک افتخار یہ ہے کہ وہ ہر سال بہت سے لوگوں کو اپنی نیابت میں خانہ خدا کی زیارت کے لئے بھیجتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کو دس سے بیس ہزار درہم دیتے تھے (١٤) ۔ ہر سال ان کی تعداد کبھی ١٥٠سے زیادہ ، کبھی ٢٥٠سے اور کبھی ٣٠٠سے زیادہ ہوتی تھی (١٥) ۔اس عمل کو وہ اسلام میں حج کی خاص فضیلت اور ا ہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیتے تھے اور یہ علی بن یقطین کے تقوی اورزہد پر بہترین دلیل ہے، لیکن اگر حج پر جانے والوں کی کُل تعداد اور ان کو جو پیسہ دیا جاتا تھا ، کو دیکھا جائے تو اس مسئلہ میں اور بھی زیادہ گہرائی نظر آتی ہے ۔ اگر نیابت کے ذریعہ حج پر جانے والوں کے گروہ اور ان کو دئیے جانے والے پیسہ کا حساب کیا جائے مثلا ان کی ایک سال میں کُل تعداد دو سو افراد اور ان کو جو پیسہ ہر سال دیا جاتا ہے وہ دس ہزار درہم ہوں تو یہ سب تقریبا بیس لاکھ درہم ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف یہ پیسہ جو ہر سال ادا کیا جاتا تھا یقینا علی بن یقطین کے خرچ کا ایک حصہ اور ان کے جاری اور زکات و خمس اور تمام مستحبی صدقات سے بچنے کے بعد رہتا ہوگا ۔ اس حساب کو مدنظر رکھتے ہوئے علی بن یقطین کے پاس کس قدر مال ہوگا جو اس خرچ کو برداشت کرتا ہے ؟
شیعہ علماء میں سب سے پہلے مرحوم شیخ بہائی نے اس مسئلہ کی طرف توجہ کی ہے اورانہوں نے ایک بہت ہی لطیف نکتہ بیان کیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے علی بن یقطین کو خراج اور مسلمانوں کے بیت المال میں تصرف کرنے کی اجازت دے رکھی تھی اور علی بن یقطین اس مال کو حج کی اجرت کے عنوان سے شیعوں کو دیتے تھے تاکہ دشمنوں اور مخالفین کواعتراض کرنے کا کوئی بہانہ نہ مل سکے (١٦) ۔ اس بناء پر نواب حج کو حج پر بھیجنے کا پروگرام بہت ہی منظم تھا اور علی بن یقطین اس کام کے ذریعہ شیعوں کی اقتصادی بنیاد کو قوی کرتے تھے ۔ اس بات کی تائید کے لئے یہ بات کافی ہے کہ نواب حج کے درمیان بہت سی بڑی شخصیتیں جیسے ""عبدالرحمن بن حجاج"" اور عبداللہ بن یحیی کاھلی "" (١٧) نظر آتے ہیں جو کہ امام علیہ السلام کے خاص صحابی تھے اور حکومت سے دور اور اس کی خصوصیات سے محروم تھے (١٨) ۔
علی بن یقطین کے اس پروگرام میں دوسری چیز جو نظر آتی ہے وہ شیعوں کومکہ بھیج کر حج میں شرکت کرانا تھا تاکہ اس طرح شیعوں کی بزرگ شخصیت پہچانی جائیں اور دوسرے فرقے کے لوگوں سے بحث و مناظرہ ہوسکے اور شیعوں کی ثقافت کی ایک لہر پیدا ہوجائے ۔ علی بن یقطین کے ان تمام کاموں کی امام موسی کاظم (علیہ السلام) تائید کرتے تھے اور کئی مرتبہ امام علیہ السلام کے تدبیر سے علی بن یقطین کو نجات ملی ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک مرتبہ ہارون رشیدنے علی بن یقطین بن موسی کوفی بغدادی کو جوکہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے خاص ماننے والے تھے اوراپنی کارکردگی کی وجہ سے ہارون رشیدکے مقربین میں سے تھے ،بہت سی چیزیں دیں جن میں خلعت فاخرہ اورایک بہت عمدہ قسم کاسیاہ زربفت کابناہوا لباس تھا جس پرسونے کے تاروں سے پھول کڑھے ہوئے تھے اورجسے صرف خلفاء اوربادشاہ پہناکرتے تھے علی ین یقطین نے ازراہ تقرب وعقیدت اس سامان میں اوربہت سی چیزوں کااضافہ کرکے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میںبھیج دیا آپ نے ان کاہدیہ قبول کرلیا ،لیکن اس میں سے اس لباس مخصوص کوواپس کردیا جوزربفت کابناہواتھا اورفرمایاکہ اسے اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے اس وقت کام آئے گاجب ""جان جوکھم"" میںپڑی ہوگی انہوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ امام نہ جانے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایاہواسے اپنے پاس رکھ لیا تھوڑے دنوں کے بعدابن یقطین اپنے ایک غلام سے ناراض ہوگئے اوراسے اپنے گھرسے نکال دیا اس نے جاکرہارون رشیدخلیفہ سے ان کی شکایت کی اورکہاکہ آپ نے جس قدرخلعت وغیرہ انہیں دی ہے انہوں نے سب کاسب امام موسی کاظم علیہ السلام کودیدیاہے،اور چونکہ وہ شیعہ ہیں، اس لیے امام کوبہت مانتے ہیں، بادشاہ نے جونہی یہ بات سنی، وہ آگ بگولہ ہوگیااوراس نے فوراسپاہیوں کوحکم دیا کہ علی بن یقطین کواسی حالت میں گرفتارکرلائیں جس حال میں ہوں ،الغرض ابن یقطین لائے گئے ،بادشاہ نے پوچھا میرا دیا ہوا لباس کہاں ہے؟ انہوں نے کہا بادشاہ میرے پاس ہے اس نے کہامیں دیکھناچاہتاہوں اور سنو! اگر تم اس وقت اسے نہ دکھاسکے تومیں تمہاری گردن ماردوں گا، انہوں نے کہابادشاہ میں ابھی پیش کرتا ہوں، یہ کہہ کرانہوں نے ایک شخص سے کہاکہ میرے مکان میں جاکرمیرے فلاں کمرہ سے میرا صندوق اٹھالا، جب وہ بتایا ہوا صندوق لے آیا تو آپ نے اس کی مہر توڑی اور لباس نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا، جب بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے لباس دیکھ لیا،تو اس کاغصہ ٹھنڈا ہوا، اورخوش ہوکرکہنے لگا، کہ اب میں تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہ مانوں گا (شواہد النبوت ص١٩٤) ۔
علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ پھراس کے بعدرشیدنے اوربہت ساعطیہ دے کرانہیں عزت واحترام کے ساتھ واپس کردیا اورحکم دیاکہ شکایت کرنے والے کوایک ہزارکوڑے لگائے جائیں چنانچہ جلادوں نے مارنا شروع کیا اور وہ پانچ سو کوڑے کھا کر مرگیا (١٩) ۔ (٢٠) ۔
حاشیہ:
1. شيخ طوسى، الفهرست، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 234. 2. شيخ طوسى، الفهرست، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 234. نجاشى، فهرست اسماء مصنفى الشيعه، قم، مكتبه الداورى، ص 194. 3. نجاشى، فهرست اسماء مصنفى الشيعه، قم، مكتبه الداورى، ص 195. 4. اس سلسلہ میں امام سے کئے جانے والوں سولوں کے جواب میں مستقبل میں بپا ہونے والے فتنوں اور حوادث کے متعلق امام صادق (علیہ السلام) کی پیشین گوئی ۔ ٥۔ امام کے سامنے ایک شکاک سے مناظرہ ۔ 6. شيخ طوسى، الفهرست، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 234. 7. طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 433. 8. جلسى، بحارالأنوار، تهران، المكتبه الاسلامیّه، 1385 ه".ق، ج 48، ص 158. 9. مجلسى، بحارالأنوار، تهران، المكتبه الاسلاميه، 1385 ه".ق، ج 48، ص 136. طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 433. 10. طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 434. 11. طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 269. 12. طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 433. 13. مجلسى، بحارالأنوار، تهران، المكتبه الاسلاميه، 1385 ه".ق، ج 48، ص 158. 15. ۔ طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 434. اس سے کم پیسہ بھی نقل ہوا ہے ، گویا کہ افراد کی شخصیت اور مقام کے اعتبار سے فرق کے ساتھ دیا جاتا تھا ۔ 16. مامقانى، تنقيح المثال، تهران، انتشارات جهان، ج 2، ص 317. ١٧ ۔ عبدالرحمن بن حجاج نے امام صادق اور امام کاظم (علیہما السلام) سے استفادہ کیا ہے اور یہ شیعوں کی ممتاز اور برجستہ شخصیت تھے (نجاشى، فهرست اسما مصنفى الشيعه، قم، مكتبه الداورى، ص 65، مامقانى، عبداللّه، تنقيح المقال تهران، انتشارات جهان، ص 141. چھٹے امام نے ان سے فرمایا :اے عبدالرحمن مدینہ کے لوگوں سے بحث و گفتگو اور علمی مباحثہ کرو ، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ شیعوں کے رجال میں تمہارے جیسے افراد پیدا ہوں (اردبيلى، جامع الرواه، منشورات مكتبه آيه الله العظمى المرعشى النجفى، ج 1، ص 447- طوسى، همان كتاب، ص 442).۔ عبداللہ بن بحیی کاہلی بھی امام کاظم علیہ السلام کے نزدیک بہت ہی زیادہ مقرب تھے ، یہاں تک کہ امام نے کئی مرتبہ ان کے متعلق علی بن یقطین سے سفارش کی تھی لہذا ایک مرتبہ ان سے فرمایا : کاہلی اور ان کے خاندان کے خرچ کی ذمہ داری اٹھائو تاکہ میں تمہیں بہشت کی ضمانت دوں ! (طوسی ، وہی کتاب، صفحہ ٤٠٢) ۔ علی بن یقطین نے بھی امام کے حکم کے مطابق ہر لحاظ سے کاہلی اور ان کے خاندان کے خرچ کی ذمہ داری کو پورا کیا ان کی بہت زیادہ حمایت کی . (طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 448). 18. طوسى، اختيار معرفه الرجال، تحقيق: حسن المصطفوى، مشهد، دانشكده الهيات و معارف اسلامى، ص 435. 19. شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى، ص 293-شبلنجى، نور الأبصار، مكتبه المشهد الحسينى، ص 150- ابن صبّاغ مالكى، الفصول المهمه، نجف، مكتبه دارالكتب التجاريه، ص 218-ابن شهراشوب، مناقب آل ابى طالب، قم، مؤسسه انتشارات علامه، ج 4، ص 289. 20. گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 449.
|
|