|
PAMPOSH
|
||
|
اسلام دین رحمت، رسول الله شمع ہدایت، علی ذات ولایت |
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا علمائے اہل سنت کی نطر میں
جگرگوشہ رسول ، شہزادی دو عالم ، فخر نسواں ،سردار خواتین دو جہاں ،بنت سردار انبیاء بتول ،عذرا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا عظیم المرتبت بی بی کے بار ے میں جہاں علمائے تشیع نے اپنے اپنے قلم سے اپنی کتابوں میں قلم فرسائی کی ہے وہیں علمائے اہل سنت نے بھی حقیقت گوئی سے کام لیا ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ افراد جو 'صم بکم عمی 'کے مصداق ہیں انہوں نے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔ خیر ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں اس لیے کہ سورج کے سامنے پردہ حائل کرنے سے اس کی روشنی نہیں چھپتی ۔
ہم یہاں انہیں علمائے اہل سنت کی کتابوں سے کچھ اقتباس حضرت زہرا کے سلسلہ سے قارئین کی خدمت میں اختصار کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
احمد ابن حنبل
اہلِ سنت کے چار مشہور ترین اہلِ مذاہب میں سے ایک اور حدیث کے بہت بڑے امام احمد ابن حنبل نے اپنی مسند کی تیسری جلد میں اپنی خاص اسناد کے ذریعے سے خادم رسول ﷺ مالک بن انس سے روایت کی ہے: رسول اسلام ﷺ چھ ماہ تک ہر روز نماز صبح کے لئے جاتے ہوئے حضرت فاطمہ کے گھر کے پاس سے گزرتے اور فرماتے: نماز! نماز!اے اہلِ بیت! اس کے بعد آپ پھر اس آیت کی تلاوت فرماتے "اِنما یرِید اﷲ لِیذهب عَنکم الرِجسَ اھل البیت و یطهرکم تطهِیرا
اے اہلبیت!اللہ کا تو بس یہی ارادہ ہے کہ تمھیں ہر ناپاکی سے دور رکھے اور تمھیں خوب پاک و پاکیزہ رکھے۔
بخاری
حدیث کے معروف امام ابو عبداللہ محمد اسماعیل بخاری اپنی صحیح کے باب فضائل صحابہ میں اپنی اسناد سے نقل کرتے ہیں کہ رسولِ اسلام نے فرمایا: فاطمہ میرا پارۂ تن ہے جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا۔
امام بخاری نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر رسول اللہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ (ج٦) پانچویں جلد میں انھوں نے آنحضرت کا یہ فرمان بھی نقل کیا ہے: الفاطمة سیدة نساء اھلِ الجنة' جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔
مسلم بن حجاج
صحاح ستہ میں سے دوسری اہم کتاب صحیح مسلم سمجھی جاتی ہے۔ امام مسلم بن حجاج اپنی اس صحیح میں کہتے ہیں:
فاطمہ رسول کے جسم کا ٹکڑا ہے ،جو انھیں رنجیدہ کرتا ہے وہ رسول اللہﷺ کو رنجیدہ کرتا ہے اور جو انھیں خوش کرتا ہے وہ رسول اللہ کو خوش کرتا ہے۔
ترمذی
امام ترمذی کی سنن بھی صحاح ستہ میں شامل ہے۔ وہ نقل کرتے ہیں: حضرت عائشہ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سے رسول اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ انھوں نے جواب دیا: فاطمہ۔ پھرپوچھا گیا: مردوں میں سے؟ کہنے لگیں: ان کے شوہر علی۔
خطیب بغدادی
احمد بن علی المعروف خطیب بغدادی پانچویں صدی کے مورخ اور محقق ہیں۔ تاریخ بغداد اور مدینة الاسلام ان کی مشہور کتاب ہے۔ اس میں وہ حسین بن معاذ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی اسناد کے ذریعے حضرت عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اسلام نے فرمایا: روز محشر برپا ہوگا کہ ایک آواز آئے گی: اے لوگو!اپنی نظریں نیچی کرلو تاکہ فاطمہ بنت محمد گزرجائیں۔ ایک اور روایت میں وہ نقل کرتے ہیں: ایک پکارنے والا روز محشر ندا دے گا: اپنی آنکھوں کو بند لو تاکہ فاطمہ بنت محمد گزر جائیں۔
علامہ قندوزی
علامہ سلیمان قندوزی اپنی کتاب ینا بیع المودة میں اپنی اسناد سے انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں: نماز فجر کے وقت ہر روز رسول اللہ حضرت فاطمہ کے گھر کے دروازے پر آتے اور گھروالوں کو نماز کے لئے پکارتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے:
اِنما یرِید اﷲ لِیذهب عَنکم الرِجسَ اھل البیت و یطهرکم تطهِیرا
اور یہ سلسلہ نو ماہ تک جاری رہا۔ (سطور بالا میں مذکور ایک روایت میں چھ ماہ آیا ہے)۔ علامہ قندوزی یہ روایت درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ خبر تین سو صحابہ سے روایت ہوئی ہے۔
ابو داود
ابو داؤد سلیمان بن طیالسی کی کتاب حدیث کی قدیم اور اہم ترین کتابوںمیں سے شمار ہوتی ہے۔ وہ نقل کرتے ہیں: علی ابن ابی طالب نے فرمایا: کیا تم نہیں چاہتے کہ میں اپنے بارے میں اور فاطمہ بنتِ رسول کے بارے میں کچھ کہوں؟پھر حضرت علی فرمانے لگے:وہ اگرچہ رسول اللہ کو سب سے زیادہ عزیز تھیں تاہم میرے گھر میں چکی زیادہ پیسنے کی وجہ سے ان کا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا ، پانی زیادہ اٹھانے کی وجہ سے آپ کے کندھے پر بھی ورم آگیا تھا اور جھاڑو دینے اور گھر کی صفائی کی وجہ سے ان کا لباس بوسیدہ ہوگیا تھا۔ ہم نے سنا کہ رسول اللہ ﷺکے پاس کچھ خادمائیں ہیں۔ فاطمہ اپنے بابا جان کے پاس گئیں تاکہ ان سے کچھ مدد طلب کریں اورآنحضرت سے گھرمیں مدد کے لئے کوئی خادمہ مانگ لیں لیکن جب اپنے بابا جان کے پاس پہنچیں تو انھوں نے وہاں چند جوانوں کو دیکھا۔ انھیں بہت حیا آئی کہ اپنی درخواست بیان کریں۔ وہ کچھ کہے بغیر لوٹ آئیں۔ [3]
حاکم نیشاپوری
مستدرک علی الصحیحین امام حاکم نیشاپوری کی مشہور کتاب ہے۔ وہ اس میں نقل کرتے ہیں: رسول اللہ نے اپنے مرض موت میں حضرت فاطمہ سے فرمایا: بیٹی!کیا تم نہیں چاہتی کہ امت اسلام اور تمام عالم کی عورتوں کی سردار بنو؟
فخررازی
امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیرکبیر میں سورہ کوثر کے ذیل میں اس سورہ مبارکہ کے بارے میں متعدد وجوہ بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کوثر سے مراد آل رسول ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ سورت رسول اسلام کے دشمنوں کے طعن وعیب جوئی کو رد کرنے کے لئے نازل ہوئی۔ وہ آپ کو ابتر یعنی بے اولاد، جس کی یاد باقی نہ رہے اور مقطوع النسل کوکہتے تھے۔ اس سورت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت کو ایسی بابرکت نسل عطا کرے گا کہ زمانے گزر جائیں گے لیکن وہ باقی رہے گی۔ دیکھیں کہ خاندان اہل بیت میں سے کس قدر افراد قتل ہوئے ہیں لیکن پھر بھی دنیا خاندانِ رسالت اورآپ کی اولاد سے بھری ہوئی ہے جبکہ بنی امیہ کی تعداد کتنی زیادہ تھی لیکن آج ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص وجود نہیں رکھتا۔ ادھر ان (اولاد رسول)کی طرف دیکھیں باقر، صادق، کاظم، رضا وغیرہ جیسے کیسے کیسے اہل علم ودانش خاندان رسالت میں باقی ہیں ۔ [4]
ابن ابی الحدید
عبدالحمید ابن ابی الحدید معروف معتزلی عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ہیں ، وہ لکھتے ہیں: رسول اللہ لوگوں کے گمان سے زیادہ اور لوگ اپنی بیٹیوں کا جتنا احترام کرتے تھے اس سے زیادہ حضرت فاطمہ کی عزت کرتے تھے، یہاں تک کہ آباکو اپنی اولاد سے جو محبت ہوتی ہے رسول اللہ کی حضرت فاطمہ سے محبت اس سے کہیں زیادہ تھی۔ آپ نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار، مختلف مقامات پر اور مختلف الفاظ میں، عام و خاص کی موجودگی میں فرمایا:
اِنها سیدة نِسائِ العالمِین و اِنها عدیل مریم بنت عمران وانها اذامرت فی الموقف نادی مناد من جهة العرش: یا اھل الموقف غضوا ابصارکم لتعبر فاطمة بنت محمد.
فاطمہ عالمین کی عورتوںکی سردار ہیں۔ وہ مریم بنت عمران کا درجہ رکھتی ہیں، وہ جب میدان حشرمیں سے گزریں گی تو عرش سے ایک منادی کی آواز بلند ہوگی: اے اہل محشر! اپنی آنکھیں نیچی کرلو تاکہ فاطمہ بنت محمد گزرجائیں۔
ابن صباغ مالکی
نامور عالم ابن صباغ مالکی کہتے ہیں:ہم آپ کی چند اہم خصوصیات ، نسبی شرافت اور ذاتی خوبیاں بیان کرتے ہیں: فاطمہ زہرا اس ہستی کی بیٹی ہیں جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (سبحان الذی اسری بعبدہ)پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گئی۔ آپ بہترین انسان کی بیٹی ہیں اور پاک زاد ہیں ۔عمیق نظر رکھنے والے علماکا اس پراجماع اور اتفاق ہے کہ آپ عظیم خاتون ہیں۔ [5]
حافظ ابونعیم اصفہانی
حلیةالاولیاکے مصنف معروف عالم حافظ ابونعیم اصفہانی لکھتے ہیں: حضرت فاطمہ برگزیدہ نیکوکاروں اور منتخب پرہیزگاروں میں سے ہیں۔ آپ سیدہ بتول، بضعتِ رسول اور اولاد میں سے آنحضرت کو سب سے زیادہ محبوب اور آنحضرت کی رحلت کے بعد آپ کے خاندان میں سے آپ سے جاملنے والی پہلی شخصیت ہیں۔ آپ دنیا اور اس کی چیزوں سے بے نیاز تھیں۔ آپ دنیا کی پیچیدہ آفات وبلایا کے اسرارور موز سے آگاہ تھیں۔ [6]
توفیق ابوعلم
استاد توفیق ابو علم مصر کے معاصر علمامحققین میں سے ہیں۔ انھوں نے الفاطمةالزہرا کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:فاطمہ اسلام کی تاریخ ساز شخصیتوں میں سے ہیں۔ ان کی عظمت شان اور بلند مرتبہ کے بارے میں یہی کافی ہے کہ وہ پیغمبراعظمﷺ کی تنہا دختر ،امام علی ابن ابی طالب کی شریک حیات اور حسن وحسین کی والدہ ہیں۔ درحقیقت رسول اللہﷺ کے لئے راحت جاں اور دل کا سرور تھیں۔ زہرا وہی خاتون ہیں کہ کروڑوں انسانوں کے دل جن کی طرف جھکتے ہیں اور جن کا نام گرامی زبان پر رہتا ہے۔ آپ وہی خاتون ہیں جنھیں آپ کے والد نے ام ابیہا کہا۔ عظمت واحترام کا جو تاج آپ کے والد نے اپنی بیٹی کے سرپررکھا ، ہم پر آپ کی تکریم کو واجب کردیتا ہے۔
آلوسی
آلوسی نے اپنی تفسیرروح المعانی جلد ٣ صفحہ١٣٨ پر سورہ آل عمران کی آیت ٤٢ کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ 'اس آیت سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی برتری اور فضیلت ثابت ہوتی ہے بشرطیکہ اس آیت میں 'نسا العالمین' سے مراد تمام زمانوں اور تمام ادوار کی خواتین مراد ہوں مگر چونکہ کہا گیا ہے کہ اس ایت میں مراد حضرت مریم کے زمانے کی عورتیں ہیں لہٰذا ثابت ہے کہ مریم علیہا السلام سیدہ فاطمہ صلواة اﷲ علیہاپر فضیلت نہیں رکھتیں'۔
آلوسی لکھتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "اِن فاطمة البتول ا فضل النسا المتقدمات و المتخرات؛ فاطمه بتول صلواة اﷲ علیها تمام گذشتہ اور آئندہ عورتوں سے افضل ہیں"۔
آلوسی کے بقول "اس حدیث سے تمام عورتوں پر حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت ثابت ہوتی ہے کیونکہ سیدہ (صلواة اﷲ علیہا) رسول اللہﷺکی روح و جان ہیں، چنانچہ سیدہ فاطمہ (صلواة اﷲ علیہا) عائشہ ام المومنین پر بھی برتری رکھتی ہیں"
السہیلی رسول اللہ ﷺ کی معروف حدیث "فاطمة بضعة منی" کا حوالہ دیتے ہوئے کتاب روض الانف میں اس طرح رقم طراز ہیں لکھتے ہیں: "میری رائے میں کوئی بھی "بضعةا لرسولﷺسے افضل و برتر نہیں ہو سکتا"۔[7]
الزرقانی لکھتے ہیں: جو رائے امام المقریزی، قطب الخضیری اور امام السیوطی نے واضح دلیلوں کی روشنی میں منتخب کی ہے یہ ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا حضرت مریم (س)سمیت دنیا کی تمام عورتوں سے افضل و برتر ہیں۔ [8]
تحریر کیا ہے: "فاطمہ ام المومنین خدیجہ (صلواة اﷲ علیہاپر)سے افضل ہیں، لفظ سیادت کی خاطر اور اسی طرح مریم (صلواة اﷲ علیہا)سے افضل و برتر ہیں۔ [9]
ابن الجکنی لکھتے ہیں: "صحیح تر قول کے مطابق فاطمہ سلام اللہ علیہا افضل النسا ہیں۔ [10]
الرفاعی کے اس قول کواسی کتاب میں ، اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ اسی قول کے مطابق متقدم اکابرین اور دنیا کے علما و دانشوروں نے صحیح قرار دیا ہے، فاطمہ تمام خواتین سے افضل ہیں۔
معروف عالم اہل سنت تحریر کرتے ہیں کہ فضیلت فاطمہ سید ة النساء العالمین کی فضیلت کو کوئی درک نہیں کر سکتا اس لئے کہ ان کا مقام بہت بلند اور انکی منزلت بہت عظیم ہے ،وہ رسول اسلام کا جز ء ہیں ،اسی وجہ سے بخاری نے آپ کے لئے روایت کی ہے کہ :پیامبر ﷺ نے فرمایا فاطمہ میرا جزء ہے جس نے فاطمہ کو غضب ناک کیا اس نے مجھے غضب ناک کیا ۔[11]
حضرت زہرا کے فضائل بہت زیادہ ہیں ،انہیں میں سے ایک علم حضرت زہرا ہے ،اور وہ کیوں عالمہ نہ ہوں جبکہ وہ اس رسول کی بیٹی ہیں جو شہر علم ہے،اور وہ رسول کا جزء ہیں ۔[12]
ڈاکٹر محمدطاہر القادری
مشہور و معروف سنی عالم دین ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنی کتاب 'الدر البیضاء فی مناقب فاطمة الزہرا'میں چار خواتین کی فضلیت سے متعلق احادیث کا حوالہ دیتے ہیں اور لکھتے ہیں: 'احادیث میں کسی قسم کا تعارض (تصادم) نہیں ہے کیونکہ دیگر خواتین یعنی: مریم، آسیہ اور خدیجہ (صلواة اﷲ علیہاپر)، کی افضلیت کا تعلق ان کے اپنے زمانوں سے ہے یعنی وہ اپنے زمانوں کی عورتوں سے بہتر و برتر تھیں لیکن حضرت سیدہ عالمین (صلواة اﷲ علیہا)کی افضلیت عام اور مطلق ہے اور پورے عالم اور تمام زمانوں پر مشتمل (یعنی جہان شمول اور زمان شمول) ہے ۔
حواله جات
[2] جناب طبری ۔
[3] سنن ابی داد ، ج ٢
[4] تفسیر فخرالدین رازی، ج ٢٣،ص ٤٤١مطبعہ بہیہ، مصر
[5] الفصول المہمہ، طبع بیروت ،ص٣٤١٢
[6] حلیة الاولیاطبع بیروت ج٢ ،ص٩٣١
[7] روض الانف صفحہ٢٧٩ (مکتب الکلیات الازہری مصر)
[8] روض الانف جلد١ صفحہ١٧٨
[9] روض الانف جلد١ صفحہ١٧٨
[10] روض الانف جلد١ صفحہ١٧٨
[11] الاضواء فی مناقب الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنھا سید احمد سایح حسینی مقدمہ ص١
[12] العلم ولعلماء ،ابو بکر جابر جزائری ص٢٣٧
|
|